
مصنف: ابرا ر احمد
مصنف، محقق، اور انسانی حقوق کے علمبردار۔ کشمیری عوام کی جدوجہد اور انسانی مزاحمت کی کہانیوں کو فلسفیانہ اور جذباتی انداز میں پیش کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔
“برف کی خاموشی میں بھی، انسانی روح کی روشنی کبھی بجھتی نہیں
یہ کہانی ظلم، صبر اور انسانی مزاحمت کی وہ داستان ہے جو وادی کشمیر کے دل میں چھپی ہوئی ہے—جہاں ہر چراغ، ہر دل، اور ہر زندگی ایک نایاب امید کی علامت ہے۔
برف کی سفید چادر میں لپٹی کشمیری وادی کے دل میں چھپا ایک گاؤں ہے، جہاں ہر گھر، ہر آنگن، اور ہر خاموش گلی ایک درد بھری داستان سناتی ہے۔ یہاں زندگی کے معمولات بھی خوف کی سرحدوں سے گزر کر بنتے ہیں۔ صبح کی ہوا میں برف کی سردی کے ساتھ فائرنگ کی گونج بھی ملتی ہے، اور رات کی تاریکی میں صرف چراغوں کی مدھم روشنی باقی رہ جاتی ہے—وہ چراغ جو انسانوں کی امید اور حریت کی علامت ہیں، مگر اکثر دبا دیے جاتے ہیں۔
یہ کہانی اسی ظلم کی داستان ہے جو برف کے نیچے دب کر بھی لوگوں کے دلوں پر گہرے زخم چھوڑتا ہے۔ یہاں کے باشندے صرف جسمانی تشدد کا سامنا نہیں کرتے، بلکہ ہر لمحہ خوف، انتظار، اور گمشدگی کی دھند میں الجھتے رہتے ہیں۔ والدین اپنی اولاد کو گن شپوں، پیلٹ گن اور فوجی چھاپوں کے خوف سے محفوظ نہیں رکھ سکتے، اور بچے اپنی معصوم آنکھوں سے وہ منظر دیکھتے ہیں جسے لفظ بیان نہیں کر سکتے۔ مرکزی کردار ریحان، ایک نوجوان لڑکا ہے جس کے ہاتھ میں ایک نوٹ بک ہے، جس میں گمشدہ افراد کے نام اور ان کی مختصر مگر دردناک داستانیں درج ہیں۔ ریحان کی ماں، زہرا بی بی، خاموش مگر پختہ مزاحمت کی علامت ہیں، جو ہر ظلم کو سہنے کے باوجود اپنے خون کے آخری قطرے تک اپنے بچوں کے حق میں لڑتی ہیں۔ آسیہ، ایک دلیر لڑکی، اپنے گاؤں کی جوان نسل کی آواز ہے، اور حامد شاہ، بوڑھا شاعر، ہر ظلم کو محسوس کرتا ہے اور الفاظ کے چراغ سے لوگوں کے دلوں کو جگاتا ہے۔
یہ وادی، قدرتی حسن میں دنیا کی نظروں کو لبھاتی ہے، مگر یہاں کے ہر گوشے میں خوف، انتظار اور موت کے سائے چھپے ہیں۔ برف کے ہر ریشے میں خون کی خوشبو، خاموش فائرنگ کی گونج، اور چھپی چیخیں چھلکتی ہیں۔ ہر لمحہ یہ سوال ذہن پر بھاری پڑتا ہے: جب ظلم اور موت کے بادل ہر طرف چھا جائیں، تو کیا انسانی روح کی روشنی کبھی بجھ سکتی ہے؟
یہ کہانی اسی سوال کا جواب تلاش کرتی ہے۔ ہر کردار، ہر منظر، اور ہر جملہ انسانی مزاحمت، قربانی اور امید کی شدت کو اجاگر کرتا ہے۔ برف میں دفن چراغ کبھی مکمل طور پر نہیں بجھتا، اور ہر چھوٹی روشنی، ہر دل میں چھپی امید، ظلم کے طوفان کے باوجود جلا رہتی ہے۔
برف کی چادر نے وادی کے ہر گوشے کو ہتھیاروں کی طرح دبائے رکھا تھا۔ صبح کی روشنی دھیرے دھیرے برف کے ریشوں کے درمیان سے سرک کر زمین کو چُھوتی، مگر اس کے ساتھ ہی ایک خاموش خوف بھی ہوا میں گھل رہا تھا—ایک خوف جس کی گونج ہر گھر کی دیواروں میں سنائی دیتی تھی۔ گاؤں کے مکانات سنسان تھے، لیکن ہر دروازے کے پیچھے ایک کہانی چھپی ہوئی تھی، ایک ایسا درد جو زبانی نہیں بلکہ نظروں اور خاموش اشکوں سے محسوس کیا جاتا تھا۔
ریحان اپنی ماں زہرا بی بی کے ساتھ چھوٹے سے آنگن میں کھڑا تھا۔ اس کے ہاتھ میں نوٹ بک تھی، پرانے کاغذات کے کنارے خون کے دھبوں سے سنے ہوئے۔ ہر نام ایک داستان، ہر داستان ایک دل دہلا دینے والا واقعہ تھی۔ وہ نام جو کبھی گاؤں کی گلیوں میں ہنسی بکھیرتے تھے، اب فائرنگ، گمشدگی اور خوف کی علامت بن چکے تھے۔ ریحان نے اپنی آنکھیں بند کیں اور ہوا میں پھیلے دھندلے خون کی خوشبو کو محسوس کیا، جیسے برف کے نیچے چھپی ہر زندگی ابھی بھی دھڑک رہی ہو، مگر اس دھڑکن کو سنا کوئی نہیں رہا۔
زہرا بی بی خاموشی سے اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف اٹھائے بیٹھی تھیں۔ ان کی آنکھیں گاؤں کے ہر زخم کو، ہر گمشدہ بچے، ہر چھت سے غائب شدہ انسان کی تلاش کو دیکھ رہی تھیں۔ لیکن کوئی جواب نہیں تھا، صرف برف کی سناٹے میں دور کہیں سے چھپی فائرنگ کی گونج تھی، اور دور پہاڑوں سے گزرنے والی ہوا میں کسی کی خاموش چیخیں۔
گاؤں کے بیچوں بیچ چھوٹے سا چوک تھا، جہاں کبھی بازار اور ہنسی کی گونج ہوا کرتی تھی۔ آج وہاں صرف خاموشی تھی، اور برف پر پڑے خون کے دھبے۔ ریحان نے نوٹ بک کھولی اور ہر صفحے پر نام لکھنا شروع کیا، اور ساتھ ہی دل میں یہ سوال آیا: “یہ ظلم کب ختم ہوگا؟ کیا ہماری حریت کی روشنی کبھی دوبارہ جل سکے گی؟”
اسی وادی میں بوڑھا شاعر حامد شاہ رہتا تھا، جس کی آواز وادی کے ہر گوشے میں سنائی دیتی تھی۔ وہ گاؤں کے نوجوانوں کو فلسفے اور تاریخ کے ذریعے سبق دیتا، اور برف کے بیچ چھپی انسانی مزاحمت کی روشنی جلا کر رکھتا۔ آج بھی وہ اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس بیٹھا تھا، برف کے نیچے چھپی وادی کی خاموشی کو دیکھ رہا تھا، اور دل میں سوچ رہا تھا کہ ریحان جیسے نوجوان کب تک اس ظلم کے خلاف خاموش رہیں گے۔
ریحان کے دل میں ایک اور پرسکون اور خوفزدہ حقیقت بھی موجود تھی: آسیہ، ایک بہادر لڑکی، جو برف کی سردی میں بھی اپنے گاؤں کے بچوں کو چھپی تعلیم اور امید دیتی تھی۔ اس کی آواز کبھی گاؤں کی سناٹے میں سنائی دیتی، کبھی نوٹ بک کے صفحات میں جلی ہوئی روشنی کی طرح نمودار ہوتی۔
صبح کے وقت، برف کے ہر ریشے پر ایک سرخ دھبہ تھا—ان لوگوں کا خون جو گمشدگی یا فائرنگ کا شکار ہوئے تھے۔ ہر دھبے نے ریحان کے دل میں سوال پیدا کیا: “کیا ہم صرف زندہ رہنے کے لیے جیتے ہیں، یا یہ ظلم ہمیں ختم کرنے آیا ہے؟” اس سوال کا جواب ابھی وادی کے کسی کونے میں چھپا ہوا تھا، اور ریحان اسے تلاش کرنے کے لیے اپنی نوٹ بک اور اپنی ہمت کے چراغ کے ساتھ نکلنے والا تھا۔
وہ صبح، گاؤں کے ہر مکاں میں چھپی خاموشی نے ایک طرح کا اعلان کیا تھا: یہاں ہر چراغ بجھتا ہوا نظر آتا ہے، لیکن کسی کے دل میں چھپی روشنی ہمیشہ جلتی رہے گی۔ ریحان کے لیے یہ روشنی نہ صرف امید تھی، بلکہ ایک وعدہ بھی کہ ظلم کے اس طوفان کے بیچ انسانی مزاحمت ہمیشہ زندہ رہے گی۔
برف کی سفید چادر آج کچھ زیادہ ہی خالی لگ رہی تھی، جیسے اس نے اپنی گہرائیوں میں کوئی راز چھپا رکھا ہو۔ صبح کا سورج وادی کے پہاڑوں سے جھانک رہا تھا، مگر روشنی میں بھی ایک غیر معمولی خوف گھلا ہوا تھا۔ گاؤں کے پرانے درختوں پر برف کے بوجھ سے شاخیں جھک گئی تھیں، اور پرندے بھی عجیب طرح کی خاموشی میں گم تھے۔
ریحان نے اپنی نوٹ بک بند کر کے کمرے کی کھڑکی سے باہر جھانکا۔ دور سے دھند کے بیچ ابھرتے ہوئے سبز فوجی ٹرکوں کے سائے نظر آئے۔ دل نے ایک لمحے کے لیے دھڑکنا بھول دیا۔ یہ منظر گاؤں کے لیے نیا نہیں تھا، لیکن ہر بار یہ ایک نئی قیامت کا پیغام لاتا تھا۔
چند لمحوں بعد، گاؤں کی خاموشی ٹوٹ گئی۔ بھاری فوجی بوٹوں کی دھمک، لوہے کے دروازوں پر پڑنے والے زوردار دھکوں کی آواز، اور عورتوں کی دبائی ہوئی چیخیں ہوا میں مل کر ایک خوفناک ہم آہنگی پیدا کر رہی تھیں۔ ہر گھر کا دروازہ ایک ایک کر کے توڑا جا رہا تھا، اور اندر سے جوان لڑکوں کو گھسیٹ کر باہر لایا جا رہا تھا۔
ریحان کی ماں، زہرا بی بی، اس کے سامنے کھڑی ہو گئیں۔ ان کے چہرے پر خوف کم اور ایک عجیب سی مضبوطی زیادہ تھی۔ “ریحان، کھڑکی سے پیچھے ہٹ جاؤ۔” ان کی آواز میں حکم بھی تھا اور دعا بھی۔ لیکن ریحان نے ماں کی بات ان سنی کر دی، کیونکہ اس کی آنکھیں گلی میں کھینچے جا رہے اپنے دوست فاروق کو دیکھ رہی تھیں۔ فاروق کے ہاتھ پیچھے باندھ دیے گئے تھے، اور اس کی آنکھوں پر پٹی تھی۔
بوڑھا شاعر، حامد شاہ، اپنے گھر کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔ اس کی آواز گاؤں میں گونج اٹھی، “تم ظلم کر کے روشنی کو کبھی بجھا نہیں سکتے!” لیکن اس کا جواب ایک فوجی کی بندوق کی ضرب تھی، جو اس کے کندھے پر پڑی، اور وہ برف پر گر گیا۔ اس کے سفید شال پر سرخ دھبہ پھیلنے لگا، جیسے برف نے بھی اس ظلم کا ماتم کرنا شروع کر دیا ہو۔
آسیہ، جو گاؤں کے بچوں کو پڑھاتی تھی، ایک طرف سے بھاگتی ہوئی آئی۔ اس نے ایک بچے کو اپنی چادر میں چھپایا اور اسے پیچھے کی گلی میں بھیج دیا۔ مگر خود وہ فوجیوں کے نرغے میں آ گئی۔ اس کے چہرے پر کوئی خوف نہیں تھا، بس آنکھوں میں وہ روشنی تھی جو غلامی میں بھی بجھتی نہیں۔
اس دن گاؤں کے دس لڑکے اور تین مرد غائب کر دیے گئے۔ ان میں سے کوئی واپس نہیں آیا۔ صرف برف پر رہ جانے والے قدموں کے نشانات اور خون کے دھبے باقی رہ گئے۔ شام تک گاؤں پر ایسا سناٹا چھا گیا جیسے یہاں کبھی زندگی تھی ہی نہیں۔
ریحان رات کو اپنے آنگن میں بیٹھا نوٹ بک کے نئے صفحے پر یہ لکھ رہا تھا:
“یہ صرف ایک دن کی کہانی ہے۔ کل پھر ایک نیا دن ہوگا، اور شاید پھر کوئی غائب ہوگا۔”

رات کی سیاہی برف پر عجیب سا جادو کر رہی تھی—ہر چیز سفید تھی، مگر اس سفیدی کے نیچے ایک سیاہ خوف چھپا ہوا تھا۔ آسمان پر بادل یوں منڈلا رہے تھے جیسے وہ خود بھی اس زمین کے دکھوں کو دیکھنے کے لیے جھک آئے ہوں۔ دور پہاڑوں کے پیچھے کہیں کہیں کتے بھونک رہے تھے، اور ہوا میں بارود کی ہلکی سی بُو رچی ہوئی تھی۔
ریحان کے کمرے کی کھڑکی کے پاس نوٹ بک کھلی تھی۔ وہ فاروق، شاکر، اور باقی گمشدہ دوستوں کے نام بار بار دیکھ رہا تھا۔ ہر نام کے ساتھ ایک یاد وابستہ تھی—کھیلتے ہوئے قہقہے، مسجد کے صحن میں دعاؤں کے دوران سنجیدہ چہرے، یا برف پر قدموں کے نشان۔ اب ان سب کی جگہ ایک خلا نے لے لی تھی۔
اس نے فیصلہ کیا کہ خاموش رہنا اب ممکن نہیں۔ رات کی تاریکی میں وہ اپنے چھوٹے سے گھر کے پچھلے دروازے سے نکلا۔ جوتوں کے نیچے برف چرچرا رہی تھی، اور ہر قدم پر ایسا لگتا جیسے یہ آواز پوری وادی میں گونج رہی ہو۔ وہ اس پگڈنڈی پر چل رہا تھا جو گاؤں کو جنگل سے ملاتی تھی۔ کہا جاتا تھا کہ فوجی اکثر گمشدہ نوجوانوں کو پہاڑوں کے پار خالی چوکیوں میں رکھتے ہیں۔
چاند کی مدھم روشنی میں درختوں کے سائے خوفناک اشکال بنا رہے تھے۔ ہوا یوں چل رہی تھی جیسے کوئی سرگوشی کر رہا ہو—شاید ان لوگوں کی جن کے جسم تو مٹی میں دفن ہیں مگر آوازیں ابھی بھی آزاد ہیں۔
جنگل کے بیچ ایک چھوٹا سا کچا راستہ ملا، جس پر برف میں تازہ بوٹوں کے نشان تھے۔ ریحان نے ان نشانات کو پہچان لیا—یہ فوجیوں کے جوتوں کے نشان تھے۔ وہ دبے قدموں آگے بڑھتا رہا۔ ایک جگہ برف کے نیچے کسی کپڑے کا ٹکڑا دبا ہوا تھا۔ اس نے نکالا تو وہ فاروق کی جیکٹ کا پھٹا ہوا آستین تھا۔ اس کپڑے پر خون کے دھبے جمی ہوئی برف کی طرح سخت ہو گئے تھے۔
اچانک دور سے ایک مدھم سی چیخ سنائی دی—ایسی چیخ جو انسان کے سینے کو چیر کر گزر جائے۔ ریحان کا دل دھڑکنے لگا۔ وہ آواز کے پیچھے بڑھا، لیکن جوں جوں وہ قریب جاتا، آواز مدھم ہوتی جاتی، جیسے ہوا اسے اپنے ساتھ لے جا رہی ہو۔
وہ ایک کھنڈر نما پرانی چوکی تک پہنچا۔ لکڑی کے دروازے ٹوٹے ہوئے تھے، اور اندر سے ٹھنڈی، نم سی بدبو آ رہی تھی۔ اس نے ہمت کر کے قدم اندر رکھا۔ فرش پر رسی کے ٹکڑے، خالی گولیوں کے خول، اور دیواروں پر ناخنوں سے کھینچی گئی لکیریں تھیں۔ ایک کونے میں پرانی نوٹ بک کا پھٹا ہوا صفحہ پڑا تھا، جس پر کانپتے ہاتھوں سے لکھا تھا:
“ہم یہاں ہیں۔ اگر کوئی یہ پڑھ رہا ہے… ہمیں نکالو۔”
ریحان نے صفحہ سینے سے لگا لیا۔ آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے، مگر وہ جانتا تھا کہ یہ سفر ختم نہیں ہوا۔ یہ تو بس شروعات تھی۔ اب اس کا راستہ اس برفانی خاموشی کے بیچ سے گزرنا تھا، جہاں ہر موڑ پر موت بھی ہوسکتی تھی اور آزادی کی ایک جھلک بھی۔

صبح کی پہلی کرن برف پر پڑی تو وہ کسی ہیروں کے سمندر جیسی چمک پیدا کر رہی تھی۔ مگر یہ چمک آنکھوں کو سکون نہیں دے رہی تھی، بلکہ اندھے پن کی حد تک تیز تھی۔ ریحان نے رات بھر جنگل کے کھنڈر میں چھپ کر گزارا تھا، اور اب وہ اپنے سفر کے اگلے مرحلے پر نکلنے والا تھا—سرحد کی طرف۔
سرحد… وہ لکیریں جو کاغذ پر بنائی گئیں، مگر جنہوں نے وادی کے لوگوں کی سانسوں تک کو قید کر دیا۔ کہا جاتا تھا کہ اگر کوئی خوش قسمت ہوا تو پہاڑوں کے اُس پار آزاد فضا میں سانس لے سکتا ہے۔ مگر یہ خوش قسمتی اکثر صرف ایک کہانی تھی، حقیقت میں وہاں پہنچنا موت سے کھیلنے کے برابر تھا۔
ریحان کے پاس فاروق کی جیکٹ کا آستین، وہ پھٹا ہوا نوٹ، اور بس اتنی ہی امید تھی کہ شاید سرحد کے اُس پار کوئی سنے گا۔ جنگل کے اندرونی راستے پہ فوجی گشت کم ہوتا تھا، مگر ہر چند میل بعد ایک چوکی ضرور ملتی تھی۔
چلتے چلتے وہ ایک جمی ہوئی ندی کے کنارے پہنچا۔ پانی برف کی تہہ کے نیچے بہہ رہا تھا، مگر آواز میں ایسی بےچینی تھی جیسے ندی خود بھی قید ہو۔ ریحان نے اپنے بیگ سے خشک روٹی نکالی، مگر اسی لمحے دور سے ایک وائرلیس کی کھڑکھڑاہٹ سنائی دی۔ وہ فوراً ندی کے کنارے برف میں لیٹ گیا۔ چند لمحوں بعد دو فوجی گزرے، ان کے کندھوں پر رائفلیں تھیں اور آنکھوں میں وحشت۔ ان میں سے ایک نے کہا:
“کل رات کھنڈر کے قریب کسی کی حرکت دیکھی گئی تھی۔ کمانڈر نے حکم دیا ہے کہ زندہ نہ پکڑنا۔”
یہ سن کر ریحان کے جسم میں ایک سرد لہر دوڑ گئی۔ وہ جانتا تھا کہ اب ہر قدم موت کو چیلنج دینے کے مترادف ہے۔
دوپہر کے قریب وہ ایک چھوٹے سے چراگاہ پر پہنچا۔ یہاں ایک بوڑھا چرواہا بکریاں چرا رہا تھا۔ اس کے چہرے پر جھریاں ایسی تھیں جیسے کسی نے صدیوں کا درد نقش کر دیا ہو۔ ریحان نے آہستہ سے پوچھا:
“بابا… کیا یہ راستہ سرحد کی طرف جاتا ہے؟”
چرواہے نے گہری نظر سے اسے دیکھا اور کہا:
“جاتا تو ہے، مگر وہاں جانے والا اکثر لوٹ کر نہیں آتا۔ بیٹا، سرحد کی ہوا آزاد ضرور ہے، مگر اس تک پہنچنے کا راستہ خون سے رنگا ہوا ہے۔”
شام ہونے سے پہلے ریحان کو پہاڑوں کا وہ حصہ نظر آنے لگا جہاں سے پار کی دنیا شروع ہوتی تھی۔ فضا میں ایک الگ سی خوشبو تھی—شاید آزادی کی، یا شاید اسمگل شدہ بارود کی۔ مگر اسی لمحے دور سے روشنی کے تین اشارے نظر آئے۔ یہ فوجی نگرانی کا کوڈ تھا، جس کا مطلب تھا: “نشانہ تیار کرو۔”
ریحان نے اپنی رفتار تیز کر دی۔ برفانی ڈھلوان پر دوڑتے ہوئے اس کے پاؤں پھسلے، اور وہ ایک پتھریلی کھائی میں جا گرا۔ ہوش آیا تو اوپر آسمان کی چاندنی تھی اور قریب ایک سایہ… کوئی شخص آہستہ آہستہ اس کے قریب آ رہا تھا۔
اس شخص نے کہا:
“تم بہت دور آ گئے ہو، لڑکے۔ اب واپسی کا راستہ نہیں۔”

ریحان نے اپنی آنکھیں نیم وا کیں۔ چاند کی دھندلی روشنی میں سامنے ایک لمبا سا سایہ کھڑا تھا۔ وہ شخص کالے کوٹ میں لپٹا ہوا تھا، اور اس کی آنکھیں ایسی چمک رہی تھیں جیسے برف پر پڑی کسی تیز روشنی کا عکس۔
“تمہیں کون بھیج کر لایا ہے یہاں تک؟” اس نے گہری اور پرسکون آواز میں پوچھا۔
ریحان نے بمشکل جواب دیا: “میں… اپنے دوستوں کو ڈھونڈنے نکلا ہوں۔ وہ سب گم ہو گئے ہیں۔”
وہ شخص چند لمحے خاموش رہا، پھر دھیرے سے بولا: “یہاں گمشدگی کوئی حادثہ نہیں، بیٹے۔ یہ ایک منصوبہ ہے، ایک ایسا کھیل جس میں ہر موہر کو معلوم ہے کہ وہ کب قربان ہو گا۔”
ریحان کو اس کی باتوں میں سچائی کا زہر محسوس ہوا۔ وہ اُٹھ بیٹھا۔
“آپ کون ہیں؟”
وہ شخص ہلکا سا مسکرایا۔ “لوگ مجھے سایہ کہتے ہیں۔ میں نہ فوج کا ہوں نہ حکومت کا… میں ان کا دشمن ہوں جو اس وادی کو قید سمجھتے ہیں۔”
اس نے اپنی جیب سے ایک مڑا ہوا کاغذ نکالا اور ریحان کو دیا۔ اس پر ایک نقشہ بنا تھا، اور مختلف جگہوں پر سرخ دائرے لگے تھے۔
“یہ وہ مقامات ہیں جہاں فوجی خفیہ قید خانے بنائے ہوئے ہیں۔ تمہارے دوست… شاید ان میں سے کسی ایک میں ہوں۔ مگر سنو، ہر جگہ موت کی باریک لکیر پر چلنا ہوگا۔”
ریحان کا دل تیز دھڑکنے لگا۔ “تو ہم کب چلیں گے؟”
سایہ نے ایک گہری سانس لی۔ “آج رات۔ مگر پہلے تمہیں سچ جاننا ہوگا۔”
وہ اسے پہاڑ کے نیچے ایک تنگ سرنگ میں لے گیا۔ اندر ہر دیوار پر تصاویر لگی تھیں—نوجوان لڑکوں کی، عورتوں کی، بچوں کی۔ ہر تصویر کے نیچے تاریخ لکھی تھی، اور سب کی تاریخیں اچانک ختم ہو جاتی تھیں۔
ریحان نے کانپتے ہوئے پوچھا: “یہ سب…؟”
سایہ نے آہستہ سے کہا: “یہ وہ ہیں جنہیں وادی کی زمین نے نگل لیا۔ کوئی قبر نہیں، کوئی نشانی نہیں۔ صرف خاموشی۔”
ریحان کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے، مگر سایہ کی آواز میں ایک سختی تھی
“اگر تم نے ان سب کا انتقام لینا ہے تو ڈرنا چھوڑ دو۔ آج سے تم بھی ہم میں سے ہو۔”
ریحان نے سر ہلایا۔ وہ جانتا تھا کہ اس لمحے سے اس کی زندگی واپس نہیں لوٹے گی۔ وہ اب ایک عام نوجوان نہیں رہا تھا—وہ اب وادی کی جنگ کا حصہ بن چکا تھا۔
———-جاری ہے
Abrar Ahmed is a Pakistani journalist, columnist, writer, and author known for his contributions in the field of journalism and conflict resolution. He was born on March 19, 1982. He holds a master’s degree from the University of the Azad Jammu and Kashmir Muzaffarabad and has also studied at Quaid E Azam University.
Abrar Ahmed is recognized as the founder of several notable organizations, including the Institute of Research for Conflict Resolution and Social Development, Ikhtilaf News Media and Publications, and Daily Sutoon Newspaper. Additionally, he established the Save Humanity Foundation, reflecting his commitment to humanitarian causes.
As a journalist, columnist, and author, Abrar Ahmed has written extensively on various subjects. He has authored several books, including “Tehreek E Azadi key Azeem Surkhaik,” “Corruption key Keerhay,” “Masla e Kashmir ka Hal Aalmi aman ka Rasta,” and “Pakistan and Azad Kashmir political system and new system needed.” These books cover topics ranging from the struggle for freedom, corruption, the Kashmir issue, and the need for political reform.
Abrar Ahmed has also contributed to education through his text books, such as “Modern Community Development Ideas” and “Basic Journalism,” which have helped educate and shape the minds of aspiring journalists and community development professionals.
In summary, Abrar Ahmed is a multifaceted individual who has made significant contributions to journalism, conflict resolution, and education in Pakistan. His work as a writer and founder of various organizations reflects his dedication to promoting positive change and addressing critical issues in society