کشمیر: دو طرفہ کہانی نہیں، عالمی ضمیر کا امتحان

برطانیہ کشمیر کو دو طرفہ نہیں بلکہ بین الاقوامی تنازع تسلیم کرے، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے

لندن: برطانیہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مسئلۂ کشمیر کو محض پاکستان اور بھارت کے درمیان دو طرفہ تنازع قرار دینے کے بجائے ایک بین الاقوامی تنازع کے طور پر تسلیم کرے اور اس کے حل کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کی حمایت کرے۔

یہ مطالبہ انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر برطانوی پارلیمنٹ کے ویسٹ منسٹر ہال میں منعقدہ ایک خصوصی اجلاس کے دوران کیا گیا، جس کا موضوع حکومتِ برطانیہ کی جانب سے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت تھا۔ اجلاس میں مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً 25 اراکینِ پارلیمنٹ نے شرکت کی۔

اس خصوصی اجلاس کا اہتمام لیبر پارٹی کے رکنِ پارلیمنٹ عمران حسین نے کیا، جبکہ حکومت کی نمائندگی پارلیمنٹری انڈر سیکریٹری آف اسٹیٹ فار پاکستان، ہمیش فالکنر نے کی۔

اجلاس کے دوران اراکینِ پارلیمنٹ اور دیگر مقررین نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، سیاسی آزادیوں پر پابندیوں اور طویل فوجی محاصرے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ کشمیر کا مسئلہ اقوامِ متحدہ کے ایجنڈے پر ایک تسلیم شدہ تنازع ہے اور اسے دو طرفہ مسئلہ قرار دینا تاریخی حقائق اور بین الاقوامی قانون کے منافی ہے۔

شرکاء کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کے جواب میں ہمیش فالکنر نے کہا کہ مسئلۂ کشمیر جنوبی ایشیا کا ایک انتہائی حساس اور نازک مسئلہ ہے، جو دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان ایک فلیش پوائنٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کو کشمیری عوام کی مرضی اور خواہشات کے مطابق اس تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ کوششیں کرنی چاہئیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ برطانوی حکومت خطے میں امن و استحکام کی حامی ہے اور انسانی حقوق کے احترام اور مکالمے کے ذریعے مسائل کے حل پر یقین رکھتی ہے۔

اجلاس کے اختتام پر اراکینِ پارلیمنٹ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مسئلہ کشمیر کو برطانوی پارلیمنٹ اور بین الاقوامی فورمز پر اجاگر کرنے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز بلند کرنے اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت جاری رکھی جائے گی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More