سائنسدانوں نے پروٹین سے بھرپور مرغی کا گوشت بنا لیا

چینی سائنسدانوں جدید ٹیکنالوجی کی بدولت چکن کا متبادل مرغی کا گوشت تیار کیا ہے جسے ایک فنگس میں جینیاتی ردو بدل کرکے پروٹین سے بھرپور گوشت بنا دیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق چینی سائنس دانوں نے ایک خاص فنگس میں جینیاتی تبدیلی کرکے ایسا پروٹین تیار کیا ہے جو ساخت اور ذائقے میں چکن کے بہت قریب ہے اور اسے کم لاگت، ماحول دوست متبادل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق مویشی پالنے سے دنیا کے تقریباً 14 فیصد گرین ہاؤس گیسز پیدا ہوتی ہیں اور اس کے لیے بہت زیادہ زمین اور پانی درکار ہوتا ہے۔

اس کے مقابلے میں فنگس اور خمیر سے تیارکردہ پروٹین ماحول کے لیے بہتر سمجھے جاتے ہیں، مگر انہیں قابلِ استعمال “میٹ” میں بدلنا ہمیشہ مشکل رہا ہے۔

فنگس فیزوریم ویناننیٹم کا پروٹین اپنی قدرتی ساخت کے باعث چکن سے بہت مشابہ ہے، تاہم اسے پیدا کرنے کے لیے بڑے وسائل درکار ہوتے ہیں۔

سائنس دانوں نے اس فنگس کا جینوم بغیر کوئی بیرونی ڈی این اے شامل کیے ایڈٹ کیا، جس سے اس کی پروٹین بنانے کی صلاحیت اور ہاضمے کی افادیت بڑھ گئی۔

تحقیق کے مطابق جینیاتی تبدیلی سے فنگس کی سیل وال پتلی ہوگئی اور ایک خلیے میں زیادہ پروٹین سما گیا جبکہ میٹابولزم بہتر ہونے سے اسے کم غذائی ان پٹ کی ضرورت پڑی۔

نئی موڈیفائیڈ فنگس کو وہی مقدار میں پروٹین پیدا کرنے کے لیے 44 فیصد کم شوگر چاہیے اور یہ عمل 88 فیصد زیادہ تیزی سے مکمل ہوتا ہے۔

چھ مختلف ممالک میں اس کی ممکنہ پیداوار کے ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینے سے پتا چلا کہ چین میں چکن کی افزائش کے مقابلے میں ایف سی پی ڈی 70 فیصد کم زمین لیتی ہے اور میٹھے پانی کی آلودگی کا خطرہ 78 فیصد کم کرتی ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے تیار کی گئی یہ فنگس مستقبل میں پائیدار پروٹین بنانے کے دیگر ماڈلز میں بھی استعمال ہوسکتی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More