
بھارت کا بین الاقوامی دھوکہ باز بے نقاب، لوگوں کو اربوں روپے کا چونا لگا گیا
نئی دہلی : بھارت کا بدنام زمانہ دھوکہ باز 8 ممالک کے 700 افراد کو 970 کروڑ روپے چونا لگا گیا، پولیس نے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق کانپور پولیس نے بڑے مالیاتی اسکینڈل کا پردہ چاک کرتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر دھوکہ دہی میں ملوث دہلی کے رہائشی رویندر ناتھ سونی کو دہرادون سے گرفتار کرلیا۔
ملزم پر الزام ہے کہ اس نے سرمایہ کاری کے نام پر مختلف اسکیموں کا لالچ دے کر 8 ممالک کے 700شہریوں سے مجموعی طور پر 970 کروڑ روپے ہتھیالیے۔
بھارتی پولیس کے مطابق ملزم سونی دبئی میں ’’بلو چپ‘‘ نامی سمیت تقریباً 20 کمپنیاں چلا رہا تھا جن کے ذریعے وہ لوگوں سے بڑے پیمانے پر منافع کا جھانسہ دے کر بھاری سرمایہ جمع کرتا رہا۔ دبئی میں تحقیقات شروع ہونے کے بعد وہ وہاں سے فرار ہوکر عمان کے راستے دہلی پہنچا اور روپوش ہوگیا۔

رپورٹ کے مطابق اس دھوکہ باز سے متاثرہ کانپور کے رہائشی عبد الکریم کے بیٹے طلحہ نے پولیس کو بتایا کہ وہ دبئی میں ملازمت کرتا ہے۔ 2021 میں ایک کمپنی کے سیلز ایگزیکٹو نے اسے 36 سے 46 ماہ میں رقم دگنی کرنے کا لالچ دیا تھا۔
کمپنی کے مالک سونی کے کہنے پر اس نے 42 لاکھ 29 ہزار روپے کی سرمایہ کاری کی، کچھ عرصے بعد جب اس نے رقم واپس لینے سے متعلق معلومات کرنے کی کوششکی تو کمپنی کے تمام رابطے بند ملے، ویب سائٹ بھی غائب تھی، تب اسے دھوکے کا علم ہوا۔
طلحہ کی شکایت پر کانپور پولیس نے ملزم کیخلاف باقاعدہ مقدمہ درج کیا جس کے بعد پولیس اور کرائم برانچ نے مشترکہ طور پر قانونی کارروائی شروع کی۔
2دسمبر کو پولیس نے دھوکہ باز ملزم سونی کو دہرادون سے گرفتار کیا، جس کے بعد ہونے والے انکشافات پر پولیس افسران بھی حیرت زدہ رہ گئے، دوران تفتیش پولیس کو 21 بھارتی بینک اکاؤنٹس اور 8 کرپٹو ٹرانزیکشن چینلز کے سراغ ملے۔
پولیس کے مطابق شکایت کنندگان کی تعداد اب تک 700 سے تجاوز کرچکی ہے، جن میں بھارت، ملائیشیا، فرانس، کینیڈا، دبئی کے شہری شامل ہیں۔ حتیٰ کہ کئی جاپانی کمپنیوں نے بھی سونی کی ان جعلی اسکیموں میں سرمایہ کاری کی تھی۔
تحقیقات کے دوران پولیس کو ایسی ویڈیوز بھی ملیں کہ جن میں ملزم سونی دبئی کے دفتر میں صوفے کے نیچے ڈالر چھپاتا دکھائی دے رہا ہے۔ دبئی پولیس سے رابطہ کرکے مزید ثبوت اکٹھے کیے جا رہے ہیں، جبکہ دھوکہ باز ملزم کے خاندان اور کاروباری دستاویزات کی بھی چھان بین جاری ہے۔
تفتیش میں اب تک 20 کمپنیوں کی نشاندہی ہوئی ہے جن میں 16 فعال ہیں جبکہ 4 بند ہو چکی ہیں۔ ان میں سے ایک کمپنی امریکہ میں بھی رجسٹرڈ ہے جس کا سربراہ گُرومیت نامی شخص ہے اس کا کاروباری اکاؤنٹ اب بھی فعال پایا گیا ہے۔
اس کے علاوہ کئی مشہور شخصیات اور پروموٹرز نے بھی سونی کی کمپنیوں کی تشہیر کی تھی، ان کو بھی تحقیقات میں شامل ہونے کے لیے نوٹس بھیجے گئے ہیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ کون سے لوگ ملزم کے ساتھ اس فراڈ منصوبے میں شامل تھے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دبئی میں سونی کے تمام دفاتر بند ہوچکے ہیں، جبکہ بھارت میں اس کے خلاف کم از کم 3 ایف آئی آر درج کی جا چکی ہیں، جس کے بعد مزید گرفتاریوں کا امکان ہے، کرائم برانچ کا دعویٰ ہے کہ بہت جلد پورے نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا جائے گا۔
Abrar Ahmed is not just a journalist — he is a chronicler of his time. A Kashmiri journalist, columnist, novelist, and author, he has spent his life wrestling with ideas, questioning power, and giving voice to the voiceless. Armed with a Master’s degree in International Law, he brings intellectual depth and moral clarity to every piece he writes. His education at the University of Azad Kashmir Muzaffarabad and Quaid-i-Azam University shaped his analytical mind, but it is his lived experience that sharpened his pen.
Abrar has been a tireless campaigner for human rights, equality, and justice, speaking out against oppressive systems of governance and entrenched corruption in many Asian countries. He has consistently raised his voice for the deprived and oppressed people of Kashmir, making their struggle for dignity and freedom heard on global platforms.
Today, he resides in Dublin, Ireland, where his perspective has widened, allowing him to view Kashmir’s pain and the world’s conflicts through a sharper, more global lens.
He is the founder of the Institute of Research for Conflict Resolution and Social Development, Ikhtilaf News Media and Publications, and the Daily Sutoon Newspaper — institutions built not just to inform, but to challenge, to provoke, to awaken. His humanitarian vision led to the creation of the Save Humanity Foundation, a reflection of his belief that words must lead to action.
His books are not mere collections of pages — they are manifestos of conscience:
Tehreek-e-Azadi ke Azeem Surkhaik — a tribute to those who gave everything for freedom.
Corruption ke Keerhay — a fearless dissection of the rot eating away at society.
Masla-e-Kashmir ka Hal: Aalmi Aman ka Rasta — a bold attempt to chart a path to peace.
Pakistan and Azad Kashmir Political System and New System Needed — a demand for reform, justice, and a future worthy of its people.
Through his textbooks Modern Community Development Ideas and Basic Journalism, Abrar has shaped generations, giving young minds the tools to see the world critically and act with purpose.
Born on March 19, 1982, Abrar Ahmed stands as a voice of resistance and renewal. His work is not just journalism — it is an ongoing struggle for truth, for peace, and for a just society. To read him is to confront the questions we are too often afraid to ask, and to believe, even in dark times, that words can still change the world.