یونیورسٹی طالبہ کا پراسرار قتل، عدالت نے اس کے دوست کو مجرم کیوں قرار دیا؟

لندن : ایک یونیورسٹی طالبہ کو قتل کرنے کے الزام میں اس کے دوست کو اصل مجرم قرار دے دیا گیا، جیوری نے چند گھنٹے میں معمہ حل کردیا۔

31سالہ چینی طالبہ زے وانگ، جو گولڈ اسمتھس یونیورسٹی آف لندن کی طالبہ تھی، گزشتہ سال 20مارچ کو لیوشم کے مینرز پارک کے علاقے میں اپنے فلیٹ سے پراسرار اور مردہ حالت میں ملی تھی۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ میں مقتولہ کے چہرے پر چاقو کے دو وار اور گلے پر دباؤ کے نشانات پائے گئے۔ مقدمے کی سماعت کے موقع پر عدالت کو بتایا گیا کہ 26 سالہ ملزم جوشوا مائیکلز جو امریکہ کے شہر شکاگو سے تعلق رکھتا ہے اور خود بھی اسی یونیورسٹی کا طالب علم ہے۔

Goldsmiths student

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق اس نے مقتولہ پر الزام عائدکیا کہ زے وانگ نے پہلے اس پر چاقو سے حملہ کیا تھا، تاہم وکیل کے مطابق جواب میں مائیکلز شدید غصے میں آکر اسے قتل کر بیٹھا۔

مقدمے میں بتایا گیا کہ مقتولہ زے وانگ نے مائیکلز کے ساتھ دوستی کے بعد اس سے ایس ٹی آئی ٹیسٹ کا مطالبہ کیا تھا، عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم کو کبھی ایس ٹی آئی لاحق ہی نہیں تھا۔

معزز جج صاحبان کو بتایا گیا کہ مائیکلز کو کبھی بھی کوئی جنسی بیماری تھی ہی نہیں، مقتولہ کو اس کی جلد پر ایک سرخ نقطہ نظر آیا تھا جس پر اس نے ملزم سے ایس ٹی ڈی ٹیسٹ کروانے کو کہا تھا۔

مائیکلز نے دعویٰ کیا کہ وہ دونوں گزشتہ ایک سال سے اچھے اور قریبی دوست تھے، وہ گزشتہ روز کھانے کی ٹرے لے کر اس کے گھر گیا تھا مگر فلیٹ پہنچنے کے کچھ ہی دیر بعد ہی مبینہ طور پر لڑکی نے غصے میں آکر اس پر چھری سے حملہ کردیا۔

ملزم جوشوا مائیکلز کا کہنا تھا کہ اس نے صرف اپنے بچاؤ اور اسے قابو کرنے کی کوشش کی تھی لیکن قتل کا ارادہ بالکل نہیں تھا۔

عدالت نے اسے بتایا کہ وہ اس وقت ہیلپ لائن سروس کو فون کرنے کے بجائے اپنے والد کو کال کرتا رہا اور زے وانگ کا فون چھپا کر کوڑے دان میں پھینک دیا جو بعد میں برآمد ہوا۔

بعد ازاں 16گھنٹے سے زائد تحقیق و تفتیش کے بعد جیوری نے مائیکلز کو لڑکی کے قتل کا مجرم قرار دے دیا تاہم اس کی سزا کا باقاعدہ اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More