غصے پر قابو پانے کیلیے ’فور ٹو سکس‘ کا فارمولا کیا ہے؟ ویڈیو دیکھیں

والدین کے بغیر اولاد کی دنیا کبھی مکمل نہیں ہوسکتی ہر بچے کی یہ فطری خواہش ہوتی ہے کہ اس کے ماں باپ ہرلحاظ سے مکمل ہوں، ان کے غصے اور لڑائی جھگڑے بچوں کی صحت اور  نفسیات پر گہرے نقوش چھوڑ جاتے ہیں۔

اس حوالے سے اے آر وائی ڈیجیٹل کے پروگرام گڈ مارننگ پاکستان میں سائیکو تھراپسٹ صائمہ ہاشم نے والدین کے جھگڑوں سے بچوں پر پڑنے والے اثرات اور ان کے نتائج سے متعلق ناظرین کو آگاہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ والدین کی لڑائی جھگڑوں اور چپقلش کے نتیجے میں بچوں میں مختلف جذباتی، نفسیاتی اور جسمانی مسائل جنم لیتے ہیں جن میں غصہ، چڑچڑا پن، خوف، بے چینی، نیند کی خرابیاں اور خود اعتمادی کی کمی شامل ہیں۔

صائمہ ہاشم کا کہنا تھا کہ ماں باپ شدید لڑائی جھگڑے کے بعد اس کا غصہ بچوں پر نکالتے ہیں ان کا یہ عمل بچوں میں تناؤ کا سبب بن سکتا ہے، جبکہ یہی رویہ بڑے بچوں میں انہیں اداس، ڈپریشن اور علیحدگی سے متعلق پریشانیوں کا شکار بناسکتا ہے۔

اس غصے پر قابو پانے کیلیے سائیکو تھراپسٹ نے ایک ورزش کا طریقہ بیان کیا جس پر عمل کرکے باآسانی اپنی ذہنی حالت کو کنٹرول کرسکتے ہیں۔ اس ورزش کا نام ’فور ٹو سکس‘ یعنی 426ہے۔


غصے کی حالت

اس ورزش کو کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جب آپ کو غصہ آئے تو سب سے پہلے 4 سیکنڈ تک سانس اندر لیں اور اسے 2 سیکنڈ تک روکے رکھیں اور پھر اس ہوا کو 6 سیکنڈ کے دورانیے میں باہر خارج کریں۔

اس سے ہوتا یہ ہے کہ ہمارے دماغ میں جو تناؤ کا حصہ (اسٹریس پارٹ) ہے وہ اس ورزش سے ختم ہوجائے گا یہ عمل کم سے کم تین بار کریں۔

اس کے علاوہ اپنے غصے سے متعلق کسی دوست سے گفتگو کریں اور اگر آپ نے اپنے بچے پر سارا غصہ نکال ہی دیا ہے تو اسے پاس بلا کر پیار سے بتائیے کہ اس میں تمہارا کوئی قصور نہیں بلکہ میری ہی غلطی ہے مجھے ایسے نہیں کرنا چاہیے تھا، اس عمل سے آپ کے بچے کے ذہن پر منفی اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More