دبئی : سونا اصلی ہے یا نقلی؟ پہچان کیلیے ’اے ٹی ایم‘ متعارف

دبئی : سونے کے کاروبار میں دنیا بھر میں اپنی پہچان رکھنے والے دبئی کی میونسپلٹی نے ایک اور انقلابی قدم اٹھا لیا ہے، سونا پرکھنے والی جدید “اے ٹی ایم ” متعارف کرادی۔

آج سے چند سال قبل جب دبئی نے سونا دینے والی “گولڈ اے ٹی ایم” مشین متعارف کرائی تھی، تو دنیا حیران رہ گئی تھی۔

اب ایک بار پھر دبئی نے دنیا کو چونکا دیا ہے، اس بار ایک ایسی خود کار مشین تیار کی گئی ہے جو صرف ایک منٹ میں یہ بتا سکتی ہے کہ آپ کا سونا اصلی ہے یا نہیں۔

گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق دبئی میونسپلٹی نے دنیا کی پہلی اسمارٹ گولڈ اینڈ جیولری ٹیسٹنگ لیب کا افتتاح کیا، جو اے ٹی ایم کی طرز پر کام کرنے والی ایک خودکار مشین ہے۔

یہ جدید آلہ صرف 60 سیکنڈ میں سونے اور دیگر قیمتی دھاتوں کی خالصیت کی جانچ کرکے نتیجہ پیش کرتا ہے۔

مذکورہ مشین سونا، چاندی، تانبہ، زنک اور دیگر دھاتوں کی فیصدی شرح کے ساتھ ایک تفصیلی رپورٹ فراہم کرتی ہے۔

صارفین کو یہ رپورٹ میسج یا پرنٹ رسید کی صورت میں مل سکتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے اے ٹی ایم یا کیش ڈپازٹ مشین سے رسید حاصل ہوتی ہے۔

دبئی میونسپلٹی کے مطابق، ان مشینوں کو جلد ہی دبئی گولڈ سوک، بڑے شاپنگ مالز اور دیگر اہم مقامات پر نصب کیا جائے گا تاکہ شہری اور سیاح بآسانی اپنے زیورات کی خالصیت چیک کر سکیں۔

قیراط کے حساب سے سونے کی اقسام

ماہرین معدنیات کے مطابق سونے کی مختلف اقسام ہیں جو ان کے خالص اور اصل ہونے کو ظاہر کرتے ہیں۔ ان کو 24، 23، 22، 20، 18 اور 14 قیراط میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ان میں سے 22، 18 اور 14 قیراط سونا زیورات بنانے میں استعمال ہوتا ہے۔

سونے کو مضبوط بنانے کے لیے دیگر معدنیات کا استعمال کیا جاتا ہے اور 995 خالص سونے سے زیورات بنانا مشکل ہے۔

یاد رہے کہ اگر سونا 995 ہے تو اسے 24 قیراط سمجھا جاتا ہے۔ اگر 1000 ملی گرام کھوٹ میں 995 (99.5 فیصد) سونا ہو تو یہ خالص سونا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More