ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا جوہری مذاکرات سے صاف انکار

تہران : ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام پر امریکا سے براہِ راست مذاکرات نہیں کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا سے بات چیت کرنا کسی مسئلے کے حل کا راستہ نہیں بلکہ ایک بند گلی میں جانے کے مترادف ہے، حالیہ صورتحال میں امریکا سے جوہری مذاکرات ہمارے مفادات کا تحفظ نہیں کریں گے۔

ایرانی سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے خطاب میں خامنہ ای نے کہا کہ امریکا سے مذاکرات سے پہلے ہی نتیجہ سنایا جا چکا ہے جس کے مطابق امریکا کا مقصد ایران کی جوہری سرگرمیوں اور یورینیم افزودگی کا خاتمہ ہے۔ یہ مذاکرات نہیں بلکہ ایک ڈکٹیشن اور زبردستی ہے جو کسی صورت قبول نہیں۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ ایران کو کبھی جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی انہوں نے اپنے خطاب میں تہران کو دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد قرار دیا تھا۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے حال ہی میں ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی کی مدت بڑھانے کی قرارداد مسترد کر دی تھی۔

یورپی ممالک نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے 2015 کے جوہری معاہدے (جے سی پی او اے) کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یورینیم کے ذخائر کو معاہدے میں طے شدہ حد سے 40 گنا بڑھا لیا ہے۔

یہ وہ معاہدہ تھا جس کے تحت ایران پر سے پابندیاں اٹھا لی گئی تھیں، بشرطیکہ وہ اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرے۔ تاہم 2018 میں صدر ٹرمپ نے امریکا کو اس معاہدے سے یکطرفہ طور پر نکال لیا اور ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More