زنک کی کمی ہمیشہ کے لیے ختم، لیکن کیسے؟

جسم میں وٹامنز اور منرلز کی موجودگی صحت کیلیے بے حد ضروری ہے، تاہم زنک کی کمی اور ذیادتی دونوں ہی نقصان دہ ہیں لیکن اگر کسی شخص میں اِس کی کمی واقع ہوجائے تو امراض کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

انسانی جسم میں زنک (جست) ایک بنیادی غذائی عنصر ہے جو مدافعتی نظام، زخموں کی بھرائی، ذائقے اور سونگھنے کی حس، ہارمونز، جلد، نشوونما اور خلیاتی افعال کے لیے نہایت ضروری ہے۔ زنک کی کمی مختلف جسمانی اور ذہنی مسائل کو جنم دیتی ہے۔

زنک کی کمی کی اہم وجوہات

ایسی غذائیں کھانا جن میں زنک کم ہو، سبزیوں کا حد سے زیادہ استعمال، ہاضمے کے مسائل، الکحل کا استعمال، بڑھتی ہوئی عمر، کچھ خاص ادویات کا استعمال جیسا کہ تیزابیت اور پیشاب آور ادویات کھانا۔ کمزور قوتِ مدافعت اہم وجوہات ہیں۔

زنک کی کمی

زنک کی کمی سے ہونے والے امراض کی علامات میں بار بار بیمار ہونا، مدافعتی کمزوری، زخموں کا دیر سے مندمل ہونا، بھوک، ذائقے اور سونگھنے کی حس میں کمی، تھکاوٹ، کمزوری، ڈپریشن، بال گرنا، جلد کے مسائل، کیل مہاسے وغیرہ شامل ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق زنک کا مناسب استعمال شوگر، ہائی بلڈ پریشر، سوزش، مردانہ ہارمونز، آنکھوں کی صحت اور جلدی امراض میں بہت مفید ثابت ہوتا ہے۔

زنک حاصل کرنے کے قدرتی ذرائع کیا ہیں؟

گوشت، کلیجی، مچھلی، مرغی، انڈے کی زردی، دالیں، اناج، میوہ جات (کاجو، بادام) کدو کے بیج، تربوز کے بیج، لہسن، سالم اناج، شیل فش یہ سب زنک حاصل کرنے کے قدرتی ذرائع ہیں۔

ہر عام انسان کو روزانہ زنک کی ایک مخصوص مقدار لازمی لینی چاہیے؟ مردوں کو 12–15 ملی گرام جبکہ خواتین کو 10–12 ملی گرام لازمی اپنی خوراک کا حصہ بنانا چاہیے۔

زنک کی کمی

اس کے علاوہ حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کو 12–15 ملی گرام لینا چاہیے، ماہرین صحت کے مطابق روزانہ 40 ملی گرام تک زنک محفوظ سمجھا جاتا ہے، لیکن بلا ضرورت مقدار بڑھانا مناسب نہیں۔

یاد رکھیں : زنک کی باقاعدہ اور متوازن مقدار صحت، بیماریوں سے بچاؤ اور جسمانی توانائی کے لیے نہایت ضروری ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ : مندرجہ بالا تحریر معالج کی عمومی رائے پر مبنی ہے، کسی بھی نسخے یا دوا کو ایک مستند معالج کے مشورے کا متبادل نہ سمجھا جائے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More