ٹوٹے دانت کیا دوبارہ اگائے جاسکیں گے؟ حیرت انگیز ایجاد کی اصل حقیقت

جنوبی کوریا کے سائنسدانوں نے ایسا پیچ تیار کرنے کی کوشش کررہے ہیں جس سے زائد عمر کے افراد اور وہ نوجوان جن کے دانت قبل از وقت ٹوٹ جاتے ہیں انہیں دوبارہ اُگانے میں مدد دے سکتا ہے۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق جنوبی کوریا کے سائنسدانوں نے ایسا حیرت انگیز مائیکرو نیڈل پیچ ایجاد کیا ہے جو انسانی دانت کو قدرتی طور پر دوبارہ اُگانے میں مدد کرسکتا ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق یہ پیچ دانتوں کے اینیمل کو مضبوط بناتا ہے، دانتوں کو دوبارہ اگانے کا دعویٰ فی الحال صرف ابتدائی مرحلے میں ہے البتہ یہ دریافت ابھی کلینیکل ٹرائلز کے لیے تیار نہیں۔

اس حوالے سے اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں امپلانٹ لوجسٹ ڈاکٹر علی حسین خان نے اس ایجاد کی حقیقت کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ اوساکا جاپان کی کیوٹو یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر کیٹسو یہ تحقیق سال 2005سے کررہے ہیں۔ جو ان تین چیزوں پر کی جارہی ہے۔

ڈاکٹر علی حسین نے بتایا کہ اس کیلیے بنیادی طور پر تین چیزیں ہوتی ہیں پہلی اینوڈونشیا جس میں دانت بالکل نہیں بنتے،دوسرا ہے الیگوڈونشیا جس میں کچھ دانت بن جاتے ہیں اور کچھ نہیں بنتے اور تیسری چیز ہے سپرنومیری ٹیتھ اس سے دانت زیادہ تعداد میں بن جاتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ جب انسان کے سارے دانت مکمل طور پر بن جاتے ہیں تو اسے بنانے والا جین اپنا کام کرنا چھوڑ دیتا ہے، یہ تحقیق اسی جین پر کی جارہی ہے تاکہ اسے دوبارہ متحرک کیا جاسکے تاہم ابھی اس پر کام جاری ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More