ڈھائی سال پہلے گٹر میں گرنے والے بیٹے کا کچھ پتہ نہیں چلا، والد کی بے بسی نے سب کو رُلا دیا

کراچی کے رہائشی عاطف الدین کا کہنا ہے کہ ڈھائی سال پہلے میرا بیٹا گٹر میں گرا تھا آج تک بھی اس کی لاش  نہیں ملی۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام الیونتھ آور میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ڈھائی سال سے گمشدہ بچے کے باپ عاطف کی بے بسی دیکھ کر سننے والے بھی افسردہ ہوگئے۔

نیپا چورنگی واقعے کے فوری بعد جائے وقوعہ پر پہنچنے والے کراچی کے رہائشی عاطف الدین نے بتایا کہ خبر ملتے ہی مجھ سے رہا نہ گیا اور میں اس بچے کے لواحقین سے ملنے پہنچ گیا۔

انہوں نے بتایا کہ یہ خبر سن کر ماضی کا سارا منظر میری آنکھوں میں گھوم گیا ڈھائی سال قبل بالکل اسی طرح میرا بیٹا ابیہان بھی گٹر میں گر کر لاپتہ ہوگیا تھا جو آج تک نہیں ملا مجھے نہیں معلوم کہ میں اپنے بیٹے کو شہید کہوں یا زندہ۔ 6مئی 2023 کو گٹر میں گرنے والے بیٹے کی لاش بھی آج تک نہ مل سکی۔

ابراہیم کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ میں نے بچے کے دادا سے کہا کہ کچھ بھی ہوجائے جب تک بچہ مل نہ جائے آپ نے یہاں سے جانا نہیں ورنہ میری طرح پریشان رہیں گے، عاطف نے بتایا کہ نیپا چورنگی پر بھی صبح فجر تک کوئی مشینری یا کسی محکمے کا کوئی ذمہ دار پوچھنے بھی نہیں آیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں اس بات کا چشم دید گواہ ہوں کہ ابراہیم کو ڈھونڈنے کیلیے کرائے پر شاول منگوایا گیا اور اس میں ڈیزل ڈلوانے کیلیے لوگوں نے 15 ہزار روپے اکھٹے کرکے دیے، جس کے بعد کھدائی کا کام شروع ہوا۔

اپنی جدوجہد کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے عاطف الدین نے بتایا کہ اس وقت میں نے اپنے بیٹے کی تلاش کیلیے گورنر سندھ اور وزیراعلیٰ سمیت دیگر اعلیٰ حکام کو بھی درخواستیں دی تھیں۔

دس ماہ بعد جو ایف آئی آر کاٹی گئی وہ بھی ہماری مرضی کی نہیں تھی، ایف آئی آر میں اس وقت کے واٹر بورڈ  چیئرمین سمیت اعلیٰ حکام نامزد ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس نے ہمیں کہا تھا کہ اپنا بیان ریکارڈ کرانے کیلئے وقوعہ کے روز جو بچے وہاں موجود تھے ان کو بھی لے کر آئیں۔

عاطف الدین نے کہا کہ اپنے بچے سے بچھڑے ہوئے ڈھائی سال کا عرصہ ہوگیا ہے مجھے اس بات کا آج تک نہیں پتہ کہ اپنے بچے کو تھا میں شمار کروں یا ہے میں؟۔

بے بس باپ کا کہنا تھا کہ ان لوگوں کی بےحسی دیکھیں عدالت میں کہتے ہیں کہ بچہ کہیں نہیں گرا، واٹر بورڈ کی طرف سے وکیل نے عدالت میں کہا کہ بچہ گٹر میں گرا ہی نہیں۔

کراچی میں کھلا مین ہول ایک اور بچے کی جان نگل گیا

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More