تیجس طیارہ گرنے کی وجہ کیا تھی؟ ایئر کموڈور خالد چشتی نے بتا دیا

دبئی ایئر شو میں بھارتی فضائیہ کا لڑاکا طیارہ تیجس تباہ ہوگیا یہ واقعہ بھارت کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہے کیونکہ یہ دو سال میں دوسرا تیجس تھا جو تباہ ہوا۔

یہ طیارہ کس نوعیت کا ہے اور اس کے گرنے کی وجوہات کیا تھیں؟ اس حوالے سے اے آر وائی نیوز کے پروگرام دی رپورٹر میں ریٹائرڈ ایئر کموڈور خالد چشتی نے بہت اہم گفتگو کی۔

انہوں نے بتایا کہ بھارتی فضائیہ کے تیجس طیارے کے گرنے کے افسوسناک واقعے کے نتیجے میں وِنگ کمانڈر نمنش سیال کی ہلاکت نے پوری دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کروالی ہے۔ یہ واقعہ بھارت کیلیے بہت بڑی ندامت کا باعث ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر سال دبئی ایئر شو عالمی سطح پر بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے جس میں مختلف ممالک اپنے جہاز نمائش کیلیے پیش کرتے ہیں جہاں ان کی ملینز آف ڈالرز میں ڈیل ہوتی ہے۔

خالد چشتی کا کہنا تھا کہ بھارت نے 1985 میں ان جہازوں کو انڈین ایئر فورس کیلیے خریدنے کا سودا کیا تھا ان طیاروں کو مگ 21 طیاروں کی جگہ لانے کا فیصلہ کیا گیا تھا جن کی تعداد 850 ہے۔ لیکن گزشتہ 40 سال میں صرف 40 تیجس جہاز بھارتی فضائیہ کو ملے ہیں۔ نو سال قبل بھی بھارت نے 40 جہازوں کا ٓرڈر دیا تھا وہ بھی اب تک نہیں مل سکے۔

انہوں نے بتایا کہ پائلٹس کی ٹریننگ میں ایک چیز سکھائی جاتی ہے جسے ’سی ایل آئی جی‘ کہتے ہیں جس کا مطلب کنٹرولڈ فلائٹ ان ٹو گراؤنڈ ہے۔ مجھے ویڈیو دیکھ کر اس بات کا اندزہ ہوا کہ بھارتی پائلٹ وِنگ کمانڈر نمنش سیال طیارے کو زمین کے اتنا قریب لاچکا تھا کہ اسے یہ دیکھنے کا وقت ہی نہ مل سکا اور وہ اس پر قابو نہ پا سکا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے شوز میں پائلٹس کے پاس غلطی کی گنجائش نہیں ہوتی اور اس پر ذہنی دباؤ بہت زیادہ ہوتا ہے کیونکہ نہ صرف زمین پر ہزاروں لوگوں کی نظریں اس پر ہوتی ہیں بلکہ وہ اپنے ملک کی نمائندگی بھی کررہا ہوتا ہے۔

ریٹائرڈ ایئر کموڈور نے بتایا کہ میرا نہیں خیال کہ بھارت کو اب اس جہاز کے آرڈر ملیں گے، 40 سال بعد بھی انڈین ایئر فورس ابھی یہ سوچ رہی ہے کہ اس طیارے میں کون سا انجن لگایا جائے روسی یا امریکی۔

واضح رہے کہ تیجس بھارت کا پہلا ملکی ساختہ لڑاکا طیارہ ہے، جسے بنگلور کی ہندوستان ایئروناٹکس لمیٹڈ نے تیار کیا ہے۔ البتہ اس کے انجن امریکا کی جنرل الیکٹرک کمپنی کے تیار کردہ ہیں۔

بھارتی فضائیہ اس وقت تیجس پر بھاری انحصار کر رہی ہے کیونکہ اس نے اپنے تمام مِگ-21 طیارے ریٹائر کر دیے ہیں اور اس کی اسکواڈرن کی تعداد تیزی سے کم ہوتی جارہی ہے۔

بھارتی فضائیہ نے حادثے کی اصل وجہ بتانے سے ابھی تک گریز کیا ہے، تاہم تاحال تحقیقات جاری ہیں اور طیارے کو گراؤنڈ کردیا گیا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More