دہشت گردوں کیخلاف کارروائی کو جنگ تصور نہ کیا جائے، ذرائع

افغانی فورسز کی جارحیت کے جواب میں دہشت گردوں کیخلاف کی جانے والی پاک فوج کی اس کارروائی کو پاکستان اور افغانستان کے عوام جنگ تصور نہ کریں۔

اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ جارحیت کے جواب میں پاکستان کا ردعمل دو ممالک کی جنگ نہیں ہے اسے کسی طور بھی پاکستان اور افغانستان کے عوام میں جنگ تصور نہ کیا جائے۔

ذرائع کے مطابق مذکورہ جارحیت افغان عبوری حکومت، افغان طالبان اور خوارج جیسے دہشت گرد عناصر کی مسلط کردہ ہے، یہ افغانی جارحیت بھارتی پیسوں سے خریدی گئی ہے۔

پاکستان کا جوابی حملہ صرف دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور ان کے تربیتی مراکز پر ہی ہوگا، جوابی حملہ صرف ان عناصر پر ہوگا جو پاکستان کے خلاف جنگ کو ہوا دے رہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کسی بھی صورت نہ افغان عوام اور نہ ہی افغانستان کے عوامی مقامات کو نشانہ بنانا چاہتا ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ جنگ پاکستان اور افغانستان کے عوام کے درمیان نہیں، بلکہ یہ جنگ افغانستان میں موجود بھارتی پرست شرپسند عناصر کے خلاف کارروائی ہے۔

مزید پڑھیں : پاکستان نے 19 افغانی پوسٹیں قبضے میں لے لیں

واضح رہے کہ پاک افغان بارڈر پر افغانستان کی جانب سے بلااشتعال جارحیت کے جواب میں پاک افواج نے19 افغانی پوسٹوں پر قبضہ کرلیا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے ملکی سرحد پر افغان فورسز کی اشتعال انگیزی کے جواب میں بھرپور کارروائی کرکے اس کے ہوش ٹھکانے لگادیے۔

پاکستان کی تباہ کن جوابی کارروائی سے گھبرا کر افغانستان نے حملے روکنے کی درخواست کی تھی جسے مسترد کردیا گیا۔

افواج پاکستان کی جانب سے افغان فورسز کو منہ توڑ جواب دینے سلسلہ بھرپور طریقے سے جاری ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے جاری ہونے والی ویڈیو میں قبضہ کی جانے والی افغان پوسٹ کے اندرونی مناظر دیکھے جاسکتے ہیں۔

ویڈیو میں پوسٹ پر افغانی یونیفارم اور اہلکاروں کے چھوڑے گئے ہتھیار دیکھے جاسکتے ہیں، بیشتر افغان طالبان پوسٹیں خالی چھوڑ کر بھاگ چکے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More