
امریکہ: خواب سے سامراج تک
دریافت، آزادی، تسلط اور تضادات کی پانچ صدیاں
ایک فکری، فلسفیانہ اور تحقیقی سفر
✦ نیٹو امریکنز کی روحانی دنیا سے جدید سامراج تک
✦ آزادی کے خواب، جنگوں کے دھوئیں، اور سرمایہ دارانہ تضادات کی مکمل داستان
تحریر و تحقیق
ابرار احمد
سات کتابوں کے مصنف
فلاسفر، محقق، تجزیہ نگار
انسانی حقوق کے عالمی علمبردار
ایڈوکیٹ فار ہیومن رائٹس
بیدار ذہن اور ضمیر کی آواز
“یہ کتاب تاریخ نہیں، ضمیر کی عدالت ہے۔
یہاں صدیاں بولتی ہیں، اور خاموش قومیں گواہی دیتی ہیں۔”
پبلیکیشر
فکرِ نو پبلی کیشنز
(بین الاقوامی اشاعت برائے فلسفہ، تاریخ و عالمی سیاست)
مجوزہ اشاعت:
سال 2025، پہلی جلد
ISBN: [مخصوص نمبر درج کیا جائے گا بعد میں]
مقامِ اشاعت: آئرلینڈ / پاکستان
یہ کتاب مصنف کی فکری ملکیت ہے۔ بغیر اجازت اقتباس، نقل یا اشاعت ممنوع ہے۔
ہر لفظ صداقت، تحقیق اور ضمیر کے نام پر لکھا گیا ہے — اس کا بیہودہ استعمال، فکری جرم ہوگا۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
📄 انتساب
(Dedication)
ان تمام آوازوں کے نام —
جو تاریخ کے صفحوں پر کبھی درج نہیں ہو سکیں۔
ان قبائلی روحوں کے نام،
جنہوں نے جنگلوں کو اپنا معبد،
اور دریاؤں کو اپنی مقدس کتاب سمجھا،
مگر تاریخ نے انہیں ’’غائب‘‘ کر دیا۔جنہوں نے امریکہ کی معیشت کو اپنے خون سے سینچا،
ان سیاہ فام ہاتھوں کے نام،
جنہوں نے امریکہ کی معیشت کو اپنے خون سے سینچا،
مگر وہ خود صدیوں غلامی کے طوق میں جکڑے رہے۔ان معصوم بچوں، ماؤں اور مہاجرین کے نام،
جو امریکہ کی ’’آزادی‘‘ کے نعروں تلے بمباری کا رزق بنے —
ویتنام سے بغداد، کابل سے غزہ تک۔ان مفکرین کے نام،
جنہوں نے بندوقوں کے بیچ قلم اٹھایا،
اور دنیا کو یاد دلایا کہ طاقت سے نہیں،
ضمیر سے قیادت جنم لیتی ہے۔اور…
میری ملت، میرے کشمیر، میرے پاکستان کے ان نظریاتی سپاہیوں کے نام،
جنہوں نے ہمیشہ ظلم کے خلاف قلم کو تلوار بنایا،
اور سامراج کے سامنے سر بلند رکھا۔
ابرار احمد
از راہِ محبت، صدقِ خلوص اور سچائی کے جنون میں
آئرلینڈ، 2025
عرضِ مصنف
“یہ کتاب قلم کی فریاد، ضمیر کی عدالت اور وقت کا ریکارڈ ہے”
: قلم کیوں اٹھایا؟
جب میں نے یہ کتاب لکھنے کا آغاز کیا، تو میرے سامنے صرف ایک ریاست، ایک طاقت، ایک سلطنت نہیں تھی — بلکہ ایک سوال تھا
“کیا کوئی ریاست بیک وقت مظلوموں کی امید، اور دنیا کی محکومی کا سبب بن سکتی ہے؟
اس سوال کا مرکز امریکہ تھا۔
یہ وہی ملک ہے جو خود آزادی کی جنگ جیت کر دنیا کے محکوموں کے لیے مشعل راہ بنا — اور پھر خود نوآبادیاتی ذہنیت میں ڈھل کر دوسروں کی آزادی چھیننے لگا۔
یہ کتاب ایک مورخ کی تصنیف نہیں، بلکہ ایک انسان، ایک مسلمان، ایک فلاسفر، اور سب سے بڑھ کر ایک بیدار شعور رکھنے والے مصنف کی اندرونی جنگ کا نتیجہ ہے۔
ایک وہ جنگ جو لفظوں میں لڑی جاتی ہے، اور ایک وہ جنگ جو ضمیر سے ضمیر کے درمیان خاموشی میں جاری رہتی ہے۔
میں نے اپنے اندر سے سوال کیا:
کیوں وہ ریاست جو “سب انسان برابر پیدا ہوتے ہیں” کا نعرہ لگاتی ہے، غیر سفید فاموں کو آج بھی گولی کا نشانہ بناتی ہے؟
کیوں وہ ملک جو آزادی کا علمبردار ہے، وہ فلسطین، عراق، افغانستان، اور کشمیر میں خاموش ہے؟
کیوں وہ قوم جو اپنے بانیوں کو “فلاسفر لیڈرز” کہتی ہے، آج کارپوریٹ ملٹری مشین بن چکی ہے؟
اسی تذبذب، کشمکش، اور جستجو نے میرے قلم کو مجبور کیا کہ میں یہ کتاب لکھوں —
ایک گواہی کی صورت،
ایک احتجاج کی زبان،
اور ایک فکری آئینہ۔
میری شناخت، میرا قلم
میں ایک کشمیری ہوں — اس خطے سے، جہاں انسان کی قیمت ایک اخبار کی شہ سرخی سے زیادہ نہیں۔
میں ایک پاکستانی ہوں — ایک ایسی ریاست سے، جو نظریۂ اسلام اور امت کی امید کا استعارہ ہے، مگر عالمی سیاست میں ہمیشہ قربانی کا بکرا بنائی گئی۔
میں ایک مسلمان ہوں — ایک ایسی تہذیب کا وارث، جس نے اندلس سے بغداد تک علم و امن کے چراغ جلائے، مگر آج عالمی بیانیے میں “دہشتگرد” کہلائی جاتی ہے۔
اور میں ایک قلمکار ہوں —
جس کا عقیدہ ہے کہ اگر “تاریخ خاموش ہو جائے، تو قلم کو چیخنا چاہیے۔”
اسی لیے میں نے یہ کتاب لکھی — کیونکہ امریکہ کی داستان صرف امریکیوں کی نہیں، پوری دنیا کی ہے۔
امریکہ: ایک خواب یا ایک دھوکہ؟
امریکہ کی کہانی ایک خواب سے شروع ہوتی ہے —
ایک براعظم جہاں سب انسان برابر ہوں گے
جہاں حکمرانی عوام کی ہوگی
جہاں مذہب، نسل، زبان سب ذاتی حق ہوں گے
لیکن وہ خواب جلد ہی سرمایہ دارانہ مفادات، نوآبادیاتی سوچ، اور عسکری بالادستی میں تبدیل ہو گیا۔
- نیٹو امریکنز کو ختم کر دیا گیا
- افریقی غلام بنائے گئے
- میکسیکو کی زمین چھینی گئی
- عربوں پر پابندیاں
- مسلمانوں پر حملے
- سیاہ فاموں پر گولیاں
یہ سب کیا ہے؟
کیا یہ وہی “امریکی خواب” ہے جس کی قسم ہر صدر اٹھاتا ہے؟
یا یہ محض سفید فام اشرافیہ کا خواب ہے — جس میں باقی دنیا صرف خاموش تماشائی ہے؟
یہ کتاب کن کے لیے ہے؟
یہ کتاب ان کے لیے نہیں جو طاقت کو خدا مانتے ہیں۔
یہ اُن کے لیے ہے
- جو سوال اٹھانے کی جرات رکھتے ہیں
- جو تاریخ کو فاتحوں کی نہیں، مظلوموں کی زبان میں پڑھنا چاہتے ہیں
- جو فکری جنگ لڑ رہے ہیں — لفظوں کے ہتھیار سے
- جو میڈیا کی noise سے نکل کر human conscience کی voice سننا چاہتے ہیں
یہ کتاب ایک آئینہ ہے امریکہ کے لیے، مگر سبق ہے باقی دنیا کے لیے —
کہ اگر تم نے طاقت کے نشے میں انصاف کو فراموش کیا،
تو تمہاری سلطنت بھی وقت کی مٹی میں دفن ہو جائے گی۔
میں نہیں کہتا کہ امریکہ مکمل برائی ہے —
نہیں، امریکہ میں علم ہے، فلسفہ ہے، جدوجہد ہے، آزادی کا جذبہ ہے۔
مگر وہ جذبہ آج فوجی اڈوں، سی آئی اے کی فائلوں، اور کارپوریٹ لابیوں میں دفن ہو چکا ہے۔
میری یہ کتاب ایک پکار ہے
کہ امریکہ خود کو خود سے واپس مانگے
کہ امریکہ صرف ایک طاقت نہیں، ایک ضمیر بھی بنے
کہ وہ اس دنیا کے بوجھ کو اپنی دانش سے اٹھائے، نہ کہ اپنی بندوقوں سے
مجھے یقین ہے
جب تاریخ کے چیخنے والے لمحے آئیں گے
تو یہ کتاب ایک گواہ بن کر کھڑی ہوگی —
کہ کوئی تھا، جس نے سچ لکھا
اور ضمیر کے عین مطابق لکھا۔
ابرار احمد
تحقیق نگار، فلاسفر
ایڈووکیٹ برائے انسانی حقوق
آئرلینڈ / پاکستان
2025
پیش لفظ
“جب زمین طاقت کا مرکز بن جائے، تو انسانیت زمین سے محروم ہو جاتی ہے۔”
“یہ کتاب اُس محرومی کی گواہی ہے۔”
کہانی ایک براعظم کی نہیں
کہانی انسان کی ہے —
اس کی جستجو، اس کی بھوک، اس کے خواب اور اس کے زخم کی۔
امریکہ کی کہانی وہ نہیں جو نصابوں میں پڑھائی گئی —
یہ وہ کہانی ہے جو نیٹو امریکن قبائل کی جلی ہوئی جھونپڑیوں میں دفن ہے
وہ داستان ہے جو سیاہ فام غلاموں کی زنجیروں سے بجتی ہے
اور وہ نوحہ ہے جو عراق، افغانستان، فلسطین اور کشمیر کے شہداء کے کفن سے بلند ہوتا ہے۔
یہ کتاب نہ صرف ایک طاقتور ریاست کا تنقیدی تجزیہ ہے
بلکہ ضمیر کی عدالت میں دائر ایک مقدمہ ہے —
جس میں مدعا علیہ کا نام امریکہ ہے،
اور مدعی پوری انسانیت۔
میں نے اس کتاب کو لکھنے سے پہلے بہت دفعہ خود سے سوال کیا:
کیا میں امریکہ کا دشمن ہوں؟
نہیں —
میں اُس انسان کا وکیل ہوں جو امریکی پالیسیوں کا شکار رہا۔
میں اُس تاریخ کا ترجمان ہوں جو مغرب کی تعریف میں دفن کر دی گئی۔
اور میں اُس مستقبل کا متلاشی ہوں جس میں انصاف، علم، اور انسانیت کی حکمرانی ہو —
نہ کہ بم، بینک اور بارود کی۔
امریکہ، بلاشبہ، ایک بڑی قوم ہے —
جس کی بنیاد علم، قانون، نظریہ، اور فکری انقلاب پر رکھی گئی۔
مگر کیا وہی قوم آج مفادات، عسکریت، اور سرمایہ داری کی غلام بن چکی ہے؟
کیا وہی آزادی جس کی قسم واشنگٹن، جیفرسن، اور لنکن نے کھائی —
آج کارپوریٹ مفادات کے قدموں میں پامال نہیں ہو رہی؟
یہ پیش لفظ، فقط ایک تمہید نہیں —
یہ ایک دعوتِ فکر ہے۔
یہ قاری کو یہ باور کراتا ہے کہ
یہ کتاب صرف امریکہ پر نہیں — بلکہ ہم سب پر ہے۔
ہمارے خوابوں پر، ہماری شناخت پر، اور ہمارے مستقبل پر۔
“بعض ریاستیں فقط جغرافیے پر نہیں بنتیں، وہ ایک فکر، ایک خواب، ایک تخیل سے جنم لیتی ہیں —
لیکن جب وہی خواب بارود کی بُو میں بدل جائے، تو تاریخ چیخ اُٹھتی ہے۔”
میں نے جب قلم اُٹھایا تو میرے سامنے امریکہ صرف ایک نقشے کی صورت نہ تھا
بلکہ ایک خیال کی سلطنت کی طرح کھڑا تھا —
ایسا خیال جو آزادی کے شبدوں میں لپٹا
اور جمہوریت کے نغموں میں ڈوبا ہوا تھا۔
مگر سوال یہ ہے
کیا یہ خواب سب کے لیے یکساں تھا؟
کیا وہ نیٹو امریکن، جنہوں نے ہزاروں برس اس دھرتی کو اپنی ماں جانا
اس خواب کا حصہ بنے؟
کیا وہ افریقی غلام، جن کے جسم نیلام گھروں میں بکے،
آزادی کے اس ترانے میں شامل تھے؟
کیا آج کی مسلم دنیا، جس پر ڈرون برسائے جاتے ہیں،
اس امریکی نظریے میں کوئی مقام رکھتی ہے؟
میرا قلم صرف تنقید نہیں کرتا
وہ آئینہ دکھاتا ہے —
ایک ایسا آئینہ جس میں امریکہ نہ صرف اپنی بلندیوں، بلکہ اپنی لغزشوں، اپنی خاموشیوں، اور اپنی منافقتوں کو بھی دیکھ سکے۔
میں امریکہ کا دشمن نہیں
میں اُس فلسفے کا دوست ہوں
جسے امریکہ نے خود جنم دیا
Liberty, Equality, Justice for all.
لیکن یہ تین الفاظ اگر صرف سفید صفحات پر رہ جائیں
اور زمینی حقیقت میں وہ راکھ، لاش، اور جنگ میں بدل جائیں —
تو یہ فکری خیانت ہوتی ہے۔
میری اس کتاب کا اولین فریضہ یہی ہے
کہ وہ ان اصولوں کو آواز دے
جنہیں طاقت نے دفن کر دیا
جنہیں سامراجی مفادات نے بےنقاب کر دیا
اور جنہیں مظلوم اقوام کی آنکھوں میں آج بھی خواب بن کر تڑپتے ہیں۔
“تاریخ وہ سچ ہے جو وقت کی خاک میں دفن ہو جاتا ہے —
اور دانش وہ چراغ ہے جو اُس سچ کو روشنی میں لاتا ہے۔”
میری اس کتاب کا محرک محض ردِعمل یا وقتی جذبات نہیں —
بلکہ ایک عمیق فکری مشاہدہ ہے
جسے میں نے برسوں علمی متون، عالمی واقعات، تہذیبی مظاہر، اور استعمار کے خدوخال کا تجزیہ کر کے حاصل کیا ہے۔
میں اس کتاب میں کسی ریاست، کسی تہذیب، کسی مذہب، یا کسی نسل کو مطلق خیر یا مطلق شر کے طور پر پیش نہیں کرتا۔۔
امریکہ ایک تضاد کی علامت ہے:
- یہ وہی ملک ہے جس کی جامعات میں فلسفہ، منطق، حقوق، اور کاسموپولیٹن ازم پڑھایا جاتا ہے
- مگر یہ وہی ریاست ہے جو خود ہیروشیما، ویتنام، گوانتانامو اور غزہ کا ملبہ بھی اٹھائے کھڑی ہے۔
یہ تضاد ایک عام مشاہدہ نہیں —
بلکہ علمی معمہ (Epistemological Paradox) ہے
جسے میں نے اس کتاب میں تاریخی تسلسل، استعمار شناسی، اور نظریاتی تنقید کے امتزاج سے کھولا ہے۔
میں اس کتاب میں فینن (Frantz Fanon)، ایڈورڈ سعید (Edward Said)، نوم چومسکی (Noam Chomsky)، اور ہننا آرنٹ (Hannah Arendt) جیسے مفکرین کی بصیرت سے روشنی لیتے ہوئے
امریکی سامراجیت کو محض “پالیسی” نہیں بلکہ استعمار کی متجدد شکل کے طور پر دیکھتا ہوں —
جس میں قانون کا لبادہ اختیار کر کے ظلم کیا جاتا ہے،
اور جہاں جمہوریت کے پردے میں کارپوریٹ آمریت پنپتی ہے۔
“تاریخ وہ سچ ہے جو وقت کی خاک میں دفن ہو جاتا ہے —
اور دانش وہ چراغ ہے جو اُس سچ کو روشنی میں لاتا ہے۔”
میری اس کتاب کا محرک محض ردِعمل یا وقتی جذبات نہیں
بلکہ ایک عمیق فکری مشاہدہ ہے
جسے میں نے برسوں علمی متون، عالمی واقعات، تہذیبی مظاہر، اور استعمار کے خدوخال کا تجزیہ کر کے حاصل کیا ہے۔
میں اس کتاب میں کسی ریاست، کسی تہذیب، کسی مذہب، یا کسی نسل کو مطلق خیر یا مطلق شر کے طور پر پیش نہیں کرتا۔
میری فکر ڈائلیکٹک ہے — جدلیاتی — فلسفیانہ۔
میں نے امریکہ کو نہ صرف ایک سیاسی اکائی، بلکہ ایک تہذیبی متھ (Myth) کے طور پر پڑھا ہے
ایک ایسا Mitologized Entity جسے خود اس کی اپنی بیانیہ مشین نے “Land of Liberty” کا استعارہ بنا دیا
مگر جس کے نیچے خوف، فریب، فاشزم اور مفاد پرستی کی تہیں بھی موجود ہیں۔
امریکہ ایک تضاد کی علامت ہے
- یہ وہی ملک ہے جس کی جامعات میں فلسفہ، منطق، حقوق، اور کاسموپولیٹن ازم پڑھایا جاتا ہے
- مگر یہ وہی ریاست ہے جو خود ہیروشیما، ویتنام، گوانتانامو اور غزہ کا ملبہ بھی اٹھائے کھڑی ہے۔
یہ تضاد ایک عام مشاہدہ نہیں —
بلکہ علمی معمہ (Epistemological Paradox) ہے
جسے میں نے اس کتاب میں تاریخی تسلسل، استعمار شناسی، اور نظریاتی تنقید کے امتزاج سے کھولا ہے۔
میں اس کتاب میں فینن (Frantz Fanon)، ایڈورڈ سعید (Edward Said)، نوم چومسکی (Noam Chomsky)، اور ہننا آرنٹ (Hannah Arendt) جیسے مفکرین کی بصیرت سے روشنی لیتے ہوئے
امریکی سامراجیت کو محض “پالیسی” نہیں بلکہ استعمار کی متجدد شکل کے طور پر دیکھتا ہوں —
جس میں قانون کا لبادہ اختیار کر کے ظلم کیا جاتا ہے
اور جہاں جمہوریت کے پردے میں کارپوریٹ آمریت پنپتی ہے۔
کسی بھی قوم کی تاریخ صرف فاتحوں کی داستان نہیں ہوتی، بلکہ وہ صدا بھی ہوتی ہے جو صدیوں کی خاموشی کے بعد فضا میں گونجتی ہے۔”میری تحریر کی ابتدا محض ایک کتابی مشق نہیں، بلکہ ایک فکری طوفان ہے، جس میں تاریخ، فلسفہ اور انسانی تجربے کے متشابہ رنگ گھل مل گئے ہیں۔امریکہ، جو کہانیوں کا ایک ایسا فسانہ ہے جس نے پوری دنیا کو اپنی جادوگری میں جکڑ رکھا ہے.یہ ملک جس نے اپنی آزادی کی جنگ میں تاریخ کے عظیم ہیروز پیدا کیے،وہی آج عالمی منظرنامے پر ایسی طاقت کے طور پر ابھرا ہے، جس کی سایہ داری میں متعدد -اقوام نے اپنے خواب دفن کیے۔یہی تضاد اس کے وجود کی روحانی کشمکش ہے جو اس کتاب کے صفحات میں اپنی گونج پاتی ہے۔میں نے امریکہ کو صرف ایک جغرافیائی یا سیاسی وجود کے طور پر نہیں دیکھا- بلکہ ایک فلسفیانہ تجربے کے طور پر جانچا جس کے اندر ایک انسانی امید ایک نظریاتی انقلاب اور ساتھ ہی، ایک عالمی سامراجی تاریخ پنہاں ہے۔یہ کتاب اُس غیر مرئی پردے کو اٹھانے کی کوشش ہے – کیا طاقت ہمیشہ حق کا محافظ ہوتی ہے؟
کیا اقتدار کے دامن میں انصاف پنہاں ہوتا ہے؟
اور کیا ایک قوم، جو آزادی کی علامت بنی، دوسروں کی غلامی کا سبب بن سکتی ہے؟
یہ سوالات فطرت کے صرف فلسفیانہ مباحث نہیں، بلکہ تاریخ کی صدا ہی
جو ہمیں مجبور کرتی ہیں کہ ہم اپنی جغرافیائی حدود سے آگے نکل کر
-انسانیت کی کلیت میں سوچیں
“جب کوئی قوم اپنے آپ کو تاریخ کا مالک سمجھتی ہے، تو اسے یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ تاریخ کا ایک خالق ہوتا ہے اور ایک عدالت، جہاں سب سے بڑا فریق ‘انصاف’ ہے۔
امریکہ کی داستان میں جہاں روشنی کے مینار ہیں، وہاں سائے بھی گہرے ہیں۔
یہ روشنی کبھی امید کی کرن بن کر طلوع ہوئی، تو کبھی شکست و ہار کے بادلوں میں دھندلا گئی۔
یہ ایک ایسا تجربہ ہے جس کی پیچیدگیاں ہمیں مجبور کرتی ہیں کہ ہم صرف فاتح کی کہانی سننے سے پرہیز کریں۔
ہر انقلاب کی داستان میں وہ خاموش صدا بھی شامل ہوتی ہے جو اکثر دبائی جاتی ہے، نظر انداز کی جاتی ہے۔
اور یہی صدا آج ہمیں امریکہ کی حقیقت کے قریب لے آتی ہے۔
یہ ملک جس نے انسانی حقوق، آزادی اور جمہوریت کے علم کو بلند کیا
وہی کبھی دوسرے اقوام کے سر پر سایہ بن کر ظلم کی داستان بھی رقم کرتا رہا۔
اسی تضاد میں اس کی عظمت بھی پنہاں ہے اور اس کی زوال پذیری کا راز بھی۔
یہاں تاریخ کی مروت یہ کہتی ہے کہ کوئی بھی طاقت ابدی نہیں
اور کوئی بھی عظمت اپنی بنیادوں کو نظر انداز کر کے قائم نہیں رہ سکتی۔
میرے فکری سفر کی یہ کتاب ان تمام سوالات کا ایک جواب ہے
جو نہ صرف امریکہ کے اندر بلکہ اس کے عالمی تعلقات میں بھی گونجتے ہیں۔
یہ سوالات ہمیں اپنے داخلی تضادات، نظریاتی غلطیوں اور عملی ناکامیوں کا سامنا کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔
میں چاہتا ہوں کہ یہ کتاب محض تنقید کا ذریعہ نہ بنے
بلکہ ایک فکر انگیز دعوت ہو
جو امریکہ کو اپنے اصولوں کی یاد دلائے
اور پوری دنیا کو انسانیت کی مشترکہ منزل کی طرف مائل کرے
قومیں تاریخ کے صحیفوں میں اپنے کردار کو چمکانے کے لیے نہیں، بلکہ اپنے اعمال کے آئینے میں سچائی کو قبول کرنے کے لیے زندہ رہتی ہیں۔”
یہ کتاب ایک مکالمہ ہے
ایک وہم اور حقیقت کے بیچ کی لڑائی
ایک وہ گونج ہے جو طاقت کے شور میں دب کر بھی
انسیت اور انصاف کی پکار کرتی ہے۔
امریکہ، جسے ہم اکثر ایک عالمی سپر پاور کے طور پر دیکھتے ہیں
اس کے اندر موجود اندرونی کشمکش اور تضادات کو بھی سمجھنا لازم ہے۔
یہ تضاد اس کے بانیوں کے خواب اور آج کی عملی حقیقت کے درمیان ایک خلیج ہے۔
ایک خلیج جسے صرف تاریخی بصیرت اور فلسفیانہ غور و فکر کے ذریعے پر کیا جا سکتا ہے۔
میں نے اس کتاب میں
امریکہ کی فتحوں کو بھی جگہ دی ہے
اس کی ترقی کو بھی سراہا ہے
لیکن ساتھ ہی اس کے زوال کی وجوہات کو بھی بے نقاب کیا ہے۔
یہ کوئی نفرت یا تعصب کی تحریر نہیں
بلکہ ایک دانشورانہ فریضہ ہے
جو تاریخ کے سچے آئینے کو ہمارے سامنے رکھتا ہے۔
یہ کتاب قاری کو دعوت دیتی ہے کہ وہ امریکہ کے فکری ورثے کو سمجھے
اس کے عالمی کردار کو پرکھے
اور ایک نئے عہد کی تشکیل میں کردار ادا کرے
جہاں طاقت انصاف کی خدمت کرے
“جہاں طاقت ہو، وہاں اخلاقیات کی آزمائش بھی سخت ہوتی ہے، اور جہاں جمہوریت ہو، وہاں انصاف کی توقع بھی بلند ہوتی ہے۔”
یہی وہ نکتہ ہے جہاں امریکہ کی کہانی میں دو راہیں جدا ہو جاتی ہیں
ایک وہ راستہ جس پر اسے دنیا کی روشن مثال سمجھا جاتا ہے
دوسرا وہ راستہ جس پر طاقت کے گڑھ بن کر اسے ظلم و جبر کی علامت بھی گردانا جاتا ہے۔
میری کتاب اسی کشمکش کی داستان ہے —
ایک فکری سفر جس میں میں نے امریکہ کے جدید مفکرین، سیاسی مفاہمتوں، اور عالمی پالیسیوں کا بغور مطالعہ کیا ہے
اور ان تضادات کو اجاگر کیا ہے جو اس ملک کی روح کو پیچیدہ بناتے ہیں۔
یہ کتاب اس تاثر کو چیلنج کرتی ہے کہ صرف طاقت ہی دنیا کی راہنما ہے
اور یہ باور کراتی ہے کہ طاقت کو اخلاق، انصاف اور انسانی وقار کے ساتھ جوڑا جائے
تو ہی دنیا میں حقیقی امن ممکن ہے۔اور آزادی سب کی مشترکہ میراث ہو۔اور اپنی ذمہ داری کو پہچانیں۔
“قومیں جب اپنے اصولوں سے ہٹتی ہیں تو ان کے قلعے پتھر سے نہیں، نیتوں سے گرنے لگتے ہیں۔ تاریخ اس شکست کو تلوار سے نہیں، سچائی سے لکھتی ہے۔”
امریکہ نے خود کو آزادی کا پیامبر کہا
لیکن کیا اُس نے واقعی آزادی کو مساوی پیمانے پر بانٹا؟
کیا اُس نے ہر قوم، ہر نسل، ہر مذہب، ہر آواز کو وہی حیثیت دی جو خود اپنے لیے مانگی؟
یہ کتاب انہی سوالات کا تعاقب ہے۔
میں نے امریکہ کی بلندیوں کو بھی سراہا ہے
اس کی علمی ترقی، ادارہ جاتی نظم، عدالتی نظام، خلائی فتوحات، اور تعلیمی انقلابات کو خراجِ تحسین دیا ہے۔
لیکن میں نے ساتھ ساتھ اس کے اندھیرے گوشوں کو بھی دیکھا ہے
گوانتانامو کی خاموش چیخیں، ابوغریب کی اذیت گاہیں، غزہ کے ملبے، کابل کے سائے، اور بغداد کے اجڑے خواب۔
امریکہ وہ ریاست ہے جہاں آزادی کا گیت گایا جاتا ہے
مگر اکثر اس گیت کی دھن میں کسی نہ کسی مظلوم کی آہ دب جاتی ہے۔
میں نے اس کتاب میں فلسفیوں، مؤرخوں، اور انسانی حقوق کے علَم برداروں کی آواز کو یکجا کیا ۔تاکہ ایک ایسی علمی و اخلاقی گواہی پیش کی جا سکے جو صرف الفاظ کی مشق نہ ہو
بلکہ تاریخ کے ضمیر میں ارتعاش پیدا کرے۔ہے
بلکہ تاریخ کے ضمیر میں ارتعاش پیدا کرےتاکہ ایک ایسی علمی و اخلاقی گواہی پیش کی جا سکے جو صرف الفاظ کی مشق نہ ہو
“جہاں اصولوں کو پالیسی، اور ضمیر کو سفارت سے بدل دیا جائے، وہاں بظاہر روشن قومیں بھی تاریکی کی خاموش گواہ بن جاتی ہیں۔”
امریکہ نے صرف جنگوں سے دنیا کو تسخیر نہیں کیا
بلکہ فکر، بیانیے، اور ثقافتی اثر و نفوذ سے بھی پوری دنیا کے اذہان کو بدل ڈالا۔
اس کی سافٹ پاور — یعنی ہالی وڈ، میڈیا، جامعات، اور این جی اوز —
ایک ایسی غیر عسکری قوت ہے۔ جو قوموں کی سوچ، اقدار، اور حتیٰ کہ ایمان تک کو متاثر کرتی ہے۔مگر اس سوال کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔کیا یہ ثقافتی بالادستی انصاف اور احترام پر مبنی ہے؟ یا اس کا مقصد خیال کی نوآبادیات (Colonialism of Thought) قائم کرنا ہے؟ کیا “آزادی” کا جو تصور امریکہ نے پوری دنیا کو دیا
وہ واقعی آفاقی ہے یا صرف مخصوص مفادات کے گرد گھومتا ہے؟
امریکہ نے سافٹ پاور کے ذریعے نہ صرف قوموں کو متاثر کیابلکہ بہت سے خطوں کو دماغی تسلط (Cognitive Occupation) میں جکڑ لیا۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر مظلوم ظالم کے بیانیے کو سچ سمجھ کر اپنی ہی شناخت سے
شرمسار دکھائی دیتے ہیں۔بلکہ تاریخ کے ضمیر میں ارتعاش پیدا کرے۔
جب ایک قوم اپنی طاقت کو انصاف سے جدا کر لے
تو وہ فتوحات کے پہاڑ کھڑے کر کے بھی، تاریخ کے دل میں کبھی گھر نہیں بنا سکتی۔”
اسلامی دنیا کے ساتھ امریکہ کا رویہ اس تضاد کا آئینہ دار ہے۔
جس امت کے ساتھ اس نے دوسری جنگِ عظیم میں اتحاد کیا
اسی امت کو بعد ازاں “دہشتگرد”، “شدت پسند” اور “پسماندہ” کے خطابات سے نوازا گیا۔
فلسطین کے مظلوموں پر اسرائیل کی بمباری ہو
یا پاکستان جیسے اتحادی پر معاشی دباؤ —
امریکہ کا رویہ ایک انتخابی انصاف (Selective Justice) کا نمونہ بن کر رہ گیا ہے۔
امریکہ نے کبھی ایران کے ساتھ بات چیت کے پردے میں چالاکی کی
کبھی افغانستان کے نام پر جنگ چھیڑی
کبھی عراق کو ایٹمی ہتھیاروں کے نام پر تباہ کیا
اور کبھی مسلم دنیا کی سالمیت کو “علاقائی توازن” کے مفروضے میں ڈھال کر توڑا۔
لیکن افسوس یہ ہے کہ
جس پاکستان نے کوریا کی جنگ سے لے کر افغان جہاد تک
ہر موقع پر امریکہ کا ساتھ دیا —
اسی پاکستان کو ہر دور میں مشتبہ نگاہوں سے دیکھا گیا
پابندیوں میں جکڑا گیا
“تاریخ انصاف مانگتی ہے، تعریف نہیں۔ اور وہ قومیں جو اپنی غلطیوں کو تسلیم نہیں کرتیں، وقت اُنہیں اسباق بنادیتا ہے۔”
اس کتاب کا مقصد امریکہ کو جھٹلانا نہیں —
بلکہ یاد دہانی کرانا ہے
کہ تمہاری عظمت تمہارے آئین، عدالت، اور ضمیر میں ہے —
نہ کہ تمہارے ہتھیاروں، طیاروں، یا ڈالر میں۔
میں چاہتا ہوں کہ امریکہ کے نوجوان طالب علم، مفکر، اور رہنما
اپنے ملک کے سائے میں چھپے اس سچ کو بھی دیکھیں
جو ویتنام کے دلدلی کھیتوں
ہیروشیما کی راکھ
اور غزہ کی خون آلود اینٹوں پر لکھا گیا ہے۔
میں چاہتا ہوں کہ عالمی ضمیر بیدار ہو —
کہ دنیا کو صرف ایک قطب (unipolar world) نہیں
بلکہ کثیر قطبی انصاف (multipolar equity) چاہیے۔
یہ کتاب اُن لوگوں کے لیے لکھی گئی ہے
جو طاقت سے سچ تلاش نہیں کرتے —
بلکہ سچ سے طاقت پیدا کرتے ہیں۔
یہ پیش لفظ ختم نہیں ہوتا —
بلکہ ایک دعوتِ فکر ہے
ایک بیج ہے جسے قاری کے ذہن میں بو دیا گیا ہے
اور اب وہی قاری اس بیج کو درخت بنائے گا —
یا اسے نظر انداز کر کے
ایک اور عہدِ ظلم کی فصل اگائے گا۔اور اس کے زخموں پر تسلی کی بجائے تشویش کی چھاپ لگائی گئی۔
Abrar Ahmed is a Pakistani journalist, columnist, writer, and author known for his contributions in the field of journalism and conflict resolution. He was born on March 19, 1982. He holds a master’s degree from the University of the Azad Jammu and Kashmir Muzaffarabad and has also studied at Quaid E Azam University.
Abrar Ahmed is recognized as the founder of several notable organizations, including the Institute of Research for Conflict Resolution and Social Development, Ikhtilaf News Media and Publications, and Daily Sutoon Newspaper. Additionally, he established the Save Humanity Foundation, reflecting his commitment to humanitarian causes.
As a journalist, columnist, and author, Abrar Ahmed has written extensively on various subjects. He has authored several books, including “Tehreek E Azadi key Azeem Surkhaik,” “Corruption key Keerhay,” “Masla e Kashmir ka Hal Aalmi aman ka Rasta,” and “Pakistan and Azad Kashmir political system and new system needed.” These books cover topics ranging from the struggle for freedom, corruption, the Kashmir issue, and the need for political reform.
Abrar Ahmed has also contributed to education through his text books, such as “Modern Community Development Ideas” and “Basic Journalism,” which have helped educate and shape the minds of aspiring journalists and community development professionals.
In summary, Abrar Ahmed is a multifaceted individual who has made significant contributions to journalism, conflict resolution, and education in Pakistan. His work as a writer and founder of various organizations reflects his dedication to promoting positive change and addressing critical issues in society