
اداریہ
پاکستان اس وقت کسی ایک سیاسی بحران، کسی ایک جماعت کی ناکامی یا کسی ایک صوبے کے مسئلے سے نہیں گزر رہا۔ یہ ایک ہمہ گیر بحران ہے جو ریاستی ڈھانچے کی جڑوں تک پھیل چکا ہے۔ پنجاب ہو یا سندھ، خیبر پختونخوا ہو یا بلوچستان، گلگت بلتستان ہو یا آزاد کشمیر—نام مختلف ہیں، جماعتیں مختلف ہیں، نعرے مختلف ہیں، مگر نظام ایک ہی ہے۔ بظاہر جمہوری اور پارلیمانی، مگر حقیقت میں بوسیدہ، غیر منصفانہ اور طاقتور طبقات کے لیے ترتیب دیا گیا نظام۔پاکستان کے عوام اس وقت سڑکوں پر نہیں، مگر خاموش ہیں۔ یہ خاموشی کسی اطمینان کی علامت نہیں، بلکہ ایک تھکی ہوئی قوم کی خاموشی ہے، جو بہت کچھ دیکھ چکی ہے۔ یہ مظلوم رعایا کی خاموشی ہے—ایسی رعایا جو بولنے سے پہلے یہ جان چکی ہو کہ بولنا نقصان دہ اور خاموش رہنا بقا سمجھا جاتا ہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ جب خاموشی ناانصافی کی محافظ بن جائے تو وہ وفاداری نہیں رہتی، بلکہ زوال کا اعلان بن جاتی ہے۔ستتر برسوں میں عوام نے بار بار امید باندھی، بار بار صبر کیا، اور بار بار یہ دیکھا کہ نظام ان کے لیے نہیں بدلا۔ ترقی کے دعوے ہر دور میں کیے گئے، مگر ترقی چند علاقوں، چند شہروں اور چند طبقات تک محدود رہی۔ کہیں سڑکیں بنی، کہیں عمارتیں اٹھیں، کہیں سہولتیں بہتر ہوئیں—خاص طور پر پنجاب کے بعض شہروں میں موجودہ حکومت کے کچھ اقدامات واقعی قابلِ ذکر ہیں—مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ بہتری پورے ملک میں یکساں ہے؟ کیا دیہی سندھ، اندرونِ بلوچستان، جنوبی پنجاب، قبائلی اضلاع، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے عوام بھی خود کو اسی ریاست کا برابر کا حصہ محسوس کرتے ہیں؟حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں ترقی کا کوئی منصفانہ پیمانہ موجود نہیں۔ ترقی کو انسان کی حالت کے بجائے منصوبوں کی تعداد سے ناپا جاتا ہے۔ حالانکہ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ عوام خوشحال ہیں یا نہیں، بے روزگاری کم ہو رہی ہے یا نہیں، تعلیم زندگی بدل رہی ہے یا نہیں، انصاف قابلِ رسائی ہے یا نہیں، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ عوام میں آگہی بڑھ رہی ہے یا مایوسی۔ اگر ایک ریاست میں کچھ علاقے آگے بڑھ جائیں اور باقی پیچھے رہ جائیں تو وہ ترقی نہیں، عدم توازن ہے—اور عدم توازن بالآخر ریاست کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔
پاکستان کا سب سے بڑا بحران نوجوان نسل سے جڑا ہوا ہے۔ نوجوان پنجاب میں ہو یا بلوچستان میں، کراچی میں ہو یا پشاور میں، گلگت میں ہو یا مظفرآباد میں—اس کا تجربہ ایک سا ہے۔ تعلیم موجود ہے، مگر راستہ نہیں۔ ڈگریاں ہیں، مگر مواقع نہیں۔ روزگار میرٹ سے نہیں، تعلق سے ملتا ہے۔ جب تعلیم سماجی حرکت پیدا نہ کرے تو وہ شعور نہیں بناتی، مایوسی بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان یا تو ہجرت کا راستہ اختیار کرتا ہے یا خاموش لاتعلقی کا۔یہ سب ایک ٹوٹے ہوئے سماجی معاہدے کی نشانیاں ہیں۔ سماجی معاہدہ یہ ہوتا ہے کہ شہری محنت کرے، قانون مانے، ریاست پر اعتماد رکھے—اور بدلے میں ریاست اسے انصاف، مواقع اور تحفظ دے۔ پاکستان میں یہ معاہدہ یک طرفہ ہو چکا ہے۔ ریاست مطالبہ تو کرتی ہے، مگر جواب دہ نہیں۔ وفاداری مانگی جاتی ہے، مگر شراکت نہیں دی جاتی۔ شہری کو ووٹر سمجھا جاتا ہے، شریکِ ریاست نہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں سیاست کا اصل بحران سامنے آتا ہے۔ پاکستان میں سیاست خدمت نہیں، اقتدار کا کھیل بن چکی ہے۔ اقتدار وسائل پر کنٹرول کا ذریعہ ہے، اور وسائل چند خاندانوں، چند گروہوں اور چند طاقتور حلقوں کے گرد گھومتے ہیں۔ چاروں صوبوں میں جماعتیں مختلف ہو سکتی ہیں، مگر خاندانی سیاست، سرمایہ کاری پر مبنی الیکشن، سفارش، اور مراعات کا نظام ہر جگہ ایک سا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نظام بدلتا نہیں، صرف چہرے بدلتے ہیں۔بلدیاتی نظام کی کمزوری نے عوام کو شہری سے رعایا بنا دیا ہے۔ جب مقامی سطح پر فیصلے نہ ہوں، جب ہر مسئلے کے لیے ایم پی اے، وزیر یا کسی بااثر شخص کے در پر جانا پڑے، تو حق احسان میں بدل جاتا ہے۔ اور احسان لینے والا سوال نہیں کرتا۔ یہی رعایا سازی اس نظام کی اصل طاقت ہے۔
ایسے میں عوام کا بولنا کیوں ضروری ہے؟ اس لیے کہ ہر بوسیدہ نظام کی سب سے بڑی طاقت خوف نہیں، خاموشی ہوتی ہے۔ بولنا شور نہیں، شعور ہے۔ بولنا سڑک سے پہلے ذہن میں شروع ہوتا ہے۔ دلیل کے ساتھ، منظم طریقے سے، اصولوں کی بنیاد پر۔ جب عوام شخصیت پرستی چھوڑ کر اصولوں پر بات کریں گے، جب وہ سوال کریں گے کہ فیصلہ کہاں ہوتا ہے اور کیوں، تب یہ نظام لرزنا شروع کرے گا۔نیا نظام کسی ایک جماعت یا ایک الیکشن سے نہیں آئے گا۔ نیا نظام ایک نئے سماجی معاہدے سے جنم لے گا۔ ایسا معاہدہ جس میں ریاست کا مقصد اقتدار نہیں، انسان ہو۔ جس میں اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہوں، مقامی حکومتیں بااختیار ہوں، اور ہر علاقے کی ترقی کا باقاعدہ موازنہ ہو—یہ دیکھا جائے کہ کہاں خوشحالی بڑھی، کہاں مایوسی کم ہوئی، کہاں آگہی آئی، اور کہاں نظام ناکام رہا۔
یہ مقابلہ شہروں کی خوبصورتی کا نہیں، انسان کی حالت کا ہونا چاہیے۔ سیاست وعدوں کے بجائے نتائج پر ہو۔ صوبے ایک دوسرے سے یہ مقابلہ کریں کہ کس نے اپنے عوام کو زیادہ بااختیار بنایا، کس نے تعلیم کو روزگار سے جوڑا، کس نے انصاف کو سستا اور قابلِ رسائی بنایا۔ریاست کو اپنے شہری کو بوجھ نہیں، سرمایہ سمجھنا ہوگا۔ ایسا شہری جو صحت مند ہو، تعلیم یافتہ ہو، اور خود کو بااختیار محسوس کرے—وہی ریاست کی اصل طاقت ہوتا ہے۔ جب قانون واقعی سب کے لیے برابر ہو، جب سرکاری دفتر خوف کے بجائے سہولت کی علامت بنے، جب انصاف سفارش کا محتاج نہ ہو—تب قومیں چند برسوں میں حیران کن تبدیلیاں دیکھتی ہیں۔
پاکستان کے پاس وقت کم ہے، مگر راستہ واضح ہے۔ اگر ترقی کو نمائشی منصوبوں سے نکال کر انسانی معیار سے جوڑ دیا جائے، اگر نظام اس طرح ترتیب دیا جائے کہ اچھا کام استثنا نہیں بلکہ معمول بن جائے، اور اگر عوام کو رعایا کے بجائے شہری مان لیا جائے—تو یہ ملک چند برسوں میں بالکل مختلف نظر آ سکتا ہے۔
آخرکار ریاستیں طاقت سے نہیں،
اعتماد سے قائم رہتی ہیں۔
اور اعتماد—جب ایک بار ٹوٹ جائے—
تو اسے صرف سچ، انصاف اور حقیقی شراکت سے ہی جوڑا جا سکتا ہے۔تحریر و تحقیق: ابرار احمد
Abrar Ahmed is not just a journalist — he is a chronicler of his time. A Kashmiri journalist, columnist, novelist, and author, he has spent his life wrestling with ideas, questioning power, and giving voice to the voiceless. Armed with a Master’s degree in International Law, he brings intellectual depth and moral clarity to every piece he writes. His education at the University of Azad Kashmir Muzaffarabad and Quaid-i-Azam University shaped his analytical mind, but it is his lived experience that sharpened his pen.
Abrar has been a tireless campaigner for human rights, equality, and justice, speaking out against oppressive systems of governance and entrenched corruption in many Asian countries. He has consistently raised his voice for the deprived and oppressed people of Kashmir, making their struggle for dignity and freedom heard on global platforms.
Today, he resides in Dublin, Ireland, where his perspective has widened, allowing him to view Kashmir’s pain and the world’s conflicts through a sharper, more global lens.
He is the founder of the Institute of Research for Conflict Resolution and Social Development, Ikhtilaf News Media and Publications, and the Daily Sutoon Newspaper — institutions built not just to inform, but to challenge, to provoke, to awaken. His humanitarian vision led to the creation of the Save Humanity Foundation, a reflection of his belief that words must lead to action.
His books are not mere collections of pages — they are manifestos of conscience:
Tehreek-e-Azadi ke Azeem Surkhaik — a tribute to those who gave everything for freedom.
Corruption ke Keerhay — a fearless dissection of the rot eating away at society.
Masla-e-Kashmir ka Hal: Aalmi Aman ka Rasta — a bold attempt to chart a path to peace.
Pakistan and Azad Kashmir Political System and New System Needed — a demand for reform, justice, and a future worthy of its people.
Through his textbooks Modern Community Development Ideas and Basic Journalism, Abrar has shaped generations, giving young minds the tools to see the world critically and act with purpose.
Born on March 19, 1982, Abrar Ahmed stands as a voice of resistance and renewal. His work is not just journalism — it is an ongoing struggle for truth, for peace, and for a just society. To read him is to confront the questions we are too often afraid to ask, and to believe, even in dark times, that words can still change the world.