ریاست کا وقار طاقت کے اظہار سے نہیں، انصاف کی فراہمی سے قائم رہتا ہے۔ جہاں طاقت خود مقصد بن جائے، وہاں قانون محض ایک پردہ رہ جاتا ہے—اور پردوں کے پیچھے جو کچھ ہوتا ہے، وہ تاریخ ہمیشہ لکھ لیتی ہے۔ جموں و کشمیر میں آج جو منظرنامہ ہے، وہ کسی ہنگامی صورتِ حال کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک طویل المدت سیاسی و نظریاتی منصوبہ بندی کی عملی تصویر ہے۔
جموں و کشمیر ایک ایسا خطہ ہے جسے برسوں سے طاقت کے بل پر قابو میں رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہاں ریاستی پالیسیوں کا محور عوامی فلاح نہیں، بلکہ خاموشی کا حصول بن چکا ہے۔ اختلاف رائے کو بغاوت، سوال کو جرم، اور شناخت کو خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شہری آزادیوں کا دائرہ روز بروز سکڑتا جا رہا ہے، اور خوف ایک اجتماعی نفسیات کی صورت اختیار کر چکا ہے۔
تعلیم، جو کسی بھی معاشرے میں شعور اور ترقی کی بنیاد ہوتی ہے، کشمیر میں امتیازی سلوک کی نذر ہے۔ مسلم طلبہ کے لیے یونیورسٹیوں، بالخصوص میڈیکل کالجوں، میں داخلے عملاً محدود یا ناممکن بنا دیے گئے ہیں۔ یہ محض انتظامی رکاوٹیں نہیں، بلکہ ایک سوچ کی عکاسی ہے—ایسی سوچ جو یہ طے کرتی ہے کہ کون آگے بڑھ سکتا ہے اور کون نہیں۔ جب زندگی بچانے کی تعلیم بھی شناخت کی بنیاد پر روک دی جائے، تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ ریاست آخر کس اخلاقی جواز پر کھڑی ہے؟
ریاستی بیانیے میں “انسدادِ دہشت گردی” کے نام پر جو اقدامات کیے جا رہے ہیں، وہ زمینی حقیقت میں جعلی مقابلوں کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ نوجوانوں کو حراست میں لے کر، بغیر کسی شفاف عدالتی عمل کے، دہشت گرد قرار دے کر مار دیا جاتا ہے۔ یہ واقعات کسی ایک علاقے تک محدود نہیں—تقریباً ہر گاؤں اور ہر محلے میں ایسے گھر موجود ہیں جہاں دو یا تین نوجوان اس نام نہاد کارروائیوں میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ اتفاق نہیں، بلکہ ایک تسلسل ہے، جو سوال اٹھاتا ہے کہ قانون کی عمل داری کہاں ختم ہوتی ہے اور طاقت کی من مانی کہاں سے شروع ہو جاتی ہے۔
اس سے بھی زیادہ دل دہلا دینے والا باب جبری گمشدگیوں کا ہے۔ پچاس ہزار کے قریب آدھی بیوائیں—یہ محض اعداد و شمار نہیں، بلکہ زندہ انسانوں کی معلق زندگیاں ہیں۔ وہ عورتیں جو نہ اپنے شوہروں کی موت پر سوگ منا سکتی ہیں، نہ زندگی کی امید چھوڑ سکتی ہیں۔ ریاست نے ان سے صرف ان کے پیارے نہیں چھینے، بلکہ وقت، یقین اور مستقبل بھی چھین لیا ہے۔ یہ خاموش اذیت شاید کسی گولی سے زیادہ سفاک ہوتی ہے۔
یہ تمام صورتحال کسی نظریاتی خلا میں پیدا نہیں ہوئی۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی فکر کی جھلک واضح طور پر نظر آتی ہے، اور نریندر مودی کی حکومت اس پورے ڈھانچے کو سیاسی سرپرستی فراہم کرتی دکھائی دیتی ہے۔ کشمیر میں نافذ پالیسیاں محض انتظامی فیصلے نہیں، بلکہ ایک ایسی ذہنیت کا اظہار ہیں جو اکثریت کو قوم اور
اقلیت کو ایک مسئلہ سمجھتی ہے۔
یہی طرزِ فکر ہمیں بھارت کے دیگر حصوں میں بھی نظر آتا ہے—مسلم آبادیوں کی مسماری، کاروباروں اور گھروں پر بلڈوزر، اور اجتماعی سزا کا رواج۔ جب قانون طاقت کے تابع ہو جائے، تو عدالتیں عمارتیں رہ جاتی ہیں، انصاف نہیں۔
کشمیر ایک متنازعہ ریاست ہے—یہ کوئی جذباتی نعرہ نہیں، بلکہ ایک بین الاقوامی حقیقت ہے۔ کسی قوم کو فوجی کنٹرول میں تو رکھا جا سکتا ہے، مگر غلامی کو مستقل نہیں بنایا جا سکتا۔ اصل سوال یہ نہیں کہ کشمیر کس کے ساتھ رہے، اصل سوال یہ ہے کہ کشمیر کے عوام کی مرضی کی کیا حیثیت ہے؟ اگر انہیں انسان سمجھا جاتا ہے، تو انہیں اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دینا ہوگا—آزادانہ، شفاف اور خوف سے پاک ماحول میں۔ ریاستیں رقبے سے بڑی نہیں ہوتیں، فیصلوں سے بڑی ہوتی ہیں۔ طاقت سے زمین تو لی جا سکتی ہے، مگر تاریخ کے سوالات کو خاموش نہیں کیا جا سکتا۔ کشمیر آج ایک اخلاقی امتحان ہے—اور اس امتحان میں کامیابی کا واحد راستہ انصاف، اختیار اور عوامی ریاست جب خود کو احتساب سے بالاتر سمجھنے لگے تو پھر ظلم محض ایک عمل نہیں رہتا، ایک عادت بن جاتا ہے۔ کشمیر میں یہی عادت اب قانون، ضابطے اور قومی سلامتی کے نام پر رائج ہے۔ یہاں روزمرہ زندگی عسکری چوکیوں، شناختی کارڈوں، تلاشیوں اور خوف کے درمیان سانس لیتی ہے۔ یہ کوئی وقتی انتظام نہیں، یہ ایک مستقل ذہنی محاصرہ ہے—ایسا محاصرہ جو انسان کو آہستہ آہستہ اپنے ہی وجود سے خوف زدہ کر دیتا ہے۔
جموں و کشمیر میں اظہارِ رائے محض محدود نہیں، مجرمانہ بنا دیا گیا ہے۔ صحافت ہو یا سماجی سرگرمی، ہر آواز کو شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ صحافیوں کو طلب کیا جاتا ہے، سوالنامے تھمائے جاتے ہیں، اور یہ باور کرایا جاتا ہے کہ سچ صرف وہی ہے جو ریاست بیان کرے۔ اختلاف اگر باقی رہے تو اس کا انجام یا تو قید ہے، یا خاموشی—اور بعض اوقات دونوں۔
انٹرنیٹ کی بندش، کرفیو، اور مواصلاتی لاک ڈاؤن اب غیر معمولی اقدامات نہیں رہے۔ یہ ایک آزمودہ ہتھیار بن چکے ہیں، جس کے ذریعے پوری آبادی کو اجتماعی سزا دی جاتی ہے۔ جب رابطہ کٹ جائے، تو انسان صرف تنہا نہیں ہوتا، وہ بے بس بھی ہو جاتا ہے۔ ریاست اس بے بسی کو نظم کا نام دیتی ہے، مگر حقیقت میں یہ اجتماعی ذہنی تشدد کی ایک شکل ہے۔
معاشی سطح پر کشمیر کو دانستہ کمزور رکھا گیا ہے۔ کاروبار تباہ، سیاحت محدود، زراعت متاثر—اور اس سب کے نتیجے میں نوجوانوں کے پاس دو ہی راستے بچتے ہیں: خاموش قبولیت یا مکمل مایوسی۔ ریاست پھر اسی مایوسی کو بنیاد بنا کر مزید سختی کا جواز پیدا کرتی ہے۔ یہ ایک ایسا دائرہ ہے جو خود ظلم پیدا کرتا ہے اور پھر اسی ظلم کو اپنے وجود کی دلیل بنا لیتا ہے۔
یہ سب کچھ کسی غیر واضح قوت کا نتیجہ نہیں۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی نظریاتی فکر واضح طور پر اس پورے نظام میں سرایت کر چکی ہے—ایسی فکر جو مذہبی شناخت کو سیاسی وفاداری کا پیمانہ بناتی ہے۔ کشمیر میں اس سوچ کا اطلاق سب سے زیادہ بے رحم انداز میں ہو رہا ہے، کیونکہ یہاں سوال صرف شہریت کا نہیں، قومیت کا ہے۔
نریندر مودی کی حکومت عالمی فورمز پر جمہوریت اور ترقی کے دعوے کرتی ہے، مگر کشمیر میں یہ دعوے اپنی ضد بن جاتے ہیں۔ اگر واقعی بھارت خود کو ایک بڑی، ذمہ دار اور جمہوری ریاست سمجھتا ہے، تو پھر اسے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ طاقت کے ذریعے خاموش کرایا گیا خطہ کبھی پُرامن نہیں ہوتا۔ امن کی بنیاد رضامندی ہوتی ہے، خوف نہیں۔
کشمیر کا مسئلہ صرف کشمیر کا نہیں رہا۔ یہ انسانی حقوق، بین الاقوامی قانون، اور اخلاقی سیاست کا امتحان بن چکا ہے۔ دنیا اگر اسے محض ایک “داخلی معاملہ” کہہ کر نظر انداز کرتی ہے، تو وہ دراصل اس اصول سے دستبردار ہو رہی ہے کہ انسان کی عزت سرحدوں سے بڑی ہوتی ہے۔
اصل حل کسی وقتی پیکیج، کسی نمائشی ترقی، یا کسی عسکری کامیابی میں نہیں۔ اصل حل ایک بنیادی سچ کو ماننے میں ہے: کشمیر کے عوام کو فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے۔
یہ حق کسی احسان کے طور پر نہیں، بلکہ ایک اصول کے طور پر دینا ہوگا۔ آزادانہ، شفاف، اور غیر جانبدار ماحول میں—جہاں گولی کی نہیں، رائے کی طاقت ہو۔
ریاستیں جب اپنے ہی شہریوں کو دشمن سمجھنے لگیں، تو وہ اندر سے کھوکھلی ہو جاتی ہیں۔ کشمیر آج بھارت کے لیے صرف ایک خطہ نہیں، ایک آئینہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ بھارت اس آئینے میں خود کو طاقتور دیکھنا چاہتا ہے یا منصف؟
تاریخ طاقتوروں کو نہیں، منصفوں کو یاد رکھتی ہے۔مرضی کا احترام ہے۔ اس کے بغیر نہ امن ممکن ہے، نہ استحکام، ریاست کا سب سے خطرناک فیصلہ وہ ہوتا ہے جو قانون کے نام پر انسان کو غیر متعلق بنا دے۔ کشمیر میں یہی ہو رہا ہے۔ یہاں قانون اب تحفظ کی ڈھال نہیں رہا، بلکہ ایک ایسا اوزار بن چکا ہے جس کے ذریعے طاقت کو مستقل، اور اختلاف کو عارضی قرار دیا جاتا ہے۔ جو سوال اٹھائے، وہ مشکوک؛ جو خاموش رہے، وہ “نارمل” شہری۔ اس تقسیم نے معاشرے کی روح کو مجروح کر دیا ہے۔
قانونی و آئینی تبدیلیوں کے بعد کشمیر کو محض ایک انتظامی اکائی میں بدل دینے کی کوشش کی گئی۔ مقامی شناخت، زمین، روزگار اور سیاسی اختیار—سب کچھ مرحلہ وار کمزور کیا گیا۔ یہ تبدیلیاں کسی عوامی مشاورت کا نتیجہ نہیں تھیں؛ یہ فیصلے بند کمروں میں ہوئے، اور ان پر عمل بندوق کے سائے میں کرایا گیا۔ ریاست اگر واقعی عوامی اعتماد چاہتی ہے تو اسے عوام سے بات کرنی پڑتی ہے، ان کے سروں پر فیصلے مسلط نہیں کیے جاتے۔
سیاسی قیادت کا خلا بھی اسی منصوبے کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔ منتخب آوازوں کو یا تو قید میں رکھا گیا، یا سیاست سے بے دخل کر دیا گیا۔ یوں ایک ایسا سیاسی میدان بنایا گیا جہاں “قبول شدہ” آوازیں تو موجود ہیں، مگر معتبر نہیں؛ اور معتبر آوازیں موجود نہیں، مگر دلوں میں زندہ ہیں۔ یہ تضاد دیرپا امن پیدا نہیں کرتا—یہ صرف وقتی سکون کا وہم دیتا ہے۔
معاشرتی سطح پر اعتماد ٹوٹ چکا ہے۔ چیک پوسٹوں، چھاپوں اور نگرانی نے روزمرہ زندگی کو مشکوک بنا دیا ہے۔ بچے اسکول جاتے ہوئے سوالات سیکھتے ہیں، سبق نہیں؛ نوجوان مستقبل کے منصوبے نہیں بناتے، خطرات کا اندازہ لگاتے ہیں۔ یہ وہ نسل ہے جو کتابوں سے پہلے کرفیو کو پہچانتی ہے، اور خوابوں سے پہلے اجازت ناموں کو۔
میڈیا اور بیانیے کی جنگ بھی اسی تصویر کا حصہ ہے۔ کشمیر کو یا تو “سب ٹھیک ہے” کے فریم میں دکھایا جاتا ہے، یا “خطرہ” کے۔ عام انسان—اس کی محنت، اس کی تھکن، اس کی خاموش مزاحمت—کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ جب یہ سب دیکھ کر ایک بنیادی سوال ابھر آتا ہے: ریاست آخر کس سے ڈرتی ہے؟
اگر عوام کے پاس رائے دینے کا حق ہے، تو خوف کیوں؟
اگر وحدت واقعی مضبوط ہے، تو اختلاف سے گھبراہٹ کیوں؟
یہاں مسئلہ سلامتی کا نہیں، سچائی کا ہے۔ سلامتی بندوق سے آتی ہے، مگر سچائی مکالمے سے۔ مکالمہ وہ واحد راستہ ہے جو زخموں کو بھر سکتا ہے، ورنہ وہ نسل در نسل رسنے لگتے ہیں۔ کشمیر میں زخم گنے نہیں جا سکتے—انہیں سنا جانا ضروری ہے۔
دنیا کے لیے بھی یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ خاموشی اگر سفارت کاری کہلا سکتی ہے، تو پھر اصول محض تقریروں کی زینت رہ جاتے ہیں۔ انسانی وقار کسی جغرافیے کا محتاج نہیں۔ جہاں وقار پامال ہو، وہاں آواز اٹھانا مداخلت نہیں، ذمہ داری ہوتی ہے۔
آخرکار بات وہیں آ کر ٹھہرتی ہے جہاں سے شروع ہوئی تھی: اختیار۔
کشمیر کے عوام کو اپنی زندگی، اپنی زمین، اور اپنے مستقبل پر اختیار چاہیے۔ یہ اختیار کسی رعایت کے طور پر نہیں، ایک حق کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔ جب تک یہ تسلیم نہیں ہوگا، ترقی کے منصوبے اشتہار رہیں گے، اور امن کے دعوے کاغذ۔
تاریخ کی عدالت میں فیصلے طاقت کے بل پر نہیں ہوتے۔ وہاں سوال ایک ہی ہوتا ہے:
کیا تم نے انسان کو سنا؟
کشمیر اسی سوال کے ساتھ کھڑا ہے—اور جواب کا انتظار کر رہا ہے۔انسان غائب ہو جائے تو مسئلہ آسان ہو جاتا ہے؛ ریاست جب خود کو واحد سچ سمجھنے لگے تو پھر سچ بولنے والے غیر ضروری قرار پاتے ہیں۔ کشمیر میں یہی المیہ ہے۔ یہاں حقیقت کو یا تو دبایا جاتا ہے، یا اس کی ایسی تعبیر پیش کی جاتی ہے جس میں انسان غائب ہو جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ مسئلہ حل نہیں ہوتا، صرف موخر ہو جاتا ہے—اور موخر کیے گئے زخم آخرکار ناسور بن جاتے ہیں۔
کشمیر کے سماج پر سب سے گہرا وار غیر یقینی کا ہے۔ یہ غیر یقینی صرف سیاسی نہیں، وجودی ہے۔ لوگ نہیں جانتے کہ کل ان کے ساتھ کیا ہوگا، کس دروازے پر دستک ہوگی، کس نام پر گرفتاری ہوگی۔ قانون کی غیر واضح تشریحات اور اختیارات کی بے لگام تقسیم نے خوف کو ایک معمول بنا دیا ہے۔ جب خوف معمول بن جائے تو زندگی محض گزارا بن جاتی ہے، جینا نہیں رہتا۔
یہ بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ ریاستی سختی نے سماج کے اندرونی رشتوں کو بھی کمزور کیا ہے۔ اعتماد ٹوٹتا ہے تو ہمسائے اجنبی بن جاتے ہیں، اور خاموشی ایک دفاعی حکمتِ عملی بن جاتی ہے۔ لوگ بولتے نہیں کیونکہ انہیں یقین نہیں کہ سننے والا انصاف کرے گا۔ یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں ریاست شہریوں سے نہیں، سائے سے بات کر رہی ہوتی ہے۔
کشمیر میں مذہبی شناخت کو سلامتی کے بیانیے کے ساتھ جوڑ دینا سب سے خطرناک رجحان ہے۔ جب مذہب شک کی بنیاد بن جائے تو پھر عبادت گاہیں بھی محفوظ نہیں رہتیں، اور تہذیب جرم بن جاتی ہے۔ یہ طرزِ فکر کسی ایک خطے تک محدود نہیں رہتا—یہ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ جو آج کشمیر میں آزمایا جا رہا ہے، وہ کل کہیں اور دہرایا جا سکتا ہے۔
یہاں ایک بنیادی اخلاقی سوال کھڑا ہوتا ہے:
کیا ریاست کی ذمہ داری صرف کنٹرول ہے، یا نگہداشت بھی؟
اگر نگہداشت شامل نہیں، تو پھر طاقت محض تسلط ہے—اور تسلط کبھی پائیدار نہیں ہوتا۔
بین الاقوامی برادری کی خاموشی بھی اس کہانی کا حصہ ہے۔ اصول اگر مفاد کے تابع ہو جائیں تو وہ اصول نہیں رہتے۔ انسانی حقوق کو منتخب جغرافیوں تک محدود کرنا دراصل انسانی وقار کی درجہ بندی ہے—اور درجہ بندی ہمیشہ ناانصافی کو جنم دیتی ہے۔ کشمیر کو نظرانداز کرنا مسئلے کو ختم نہیں کرتا، بلکہ اسے گہرا کرتا ہے۔مگر حل ناممکناور نہ ہی وہ وقار جس کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔
آخر میں بات کسی نعرے پر ختم نہیں ہوتی، ایک اصول پر ختم ہوتی ہے۔
امن طاقت کے توازن سے نہیں آتا، اعتماد کے قیام سے آتا ہے۔
ترقی سڑکوں اور عمارتوں سے نہیں ناپی جاتی، آزادیِ انتخاب سے ناپی جاتی ہے۔
کشمیر کے عوام سے ان کی آواز واپس لینا مسئلے کا حل نہیں، مسئلے کی توسیع ہے۔
حل صرف ایک ہے: سننا—بغیر شرط، بغیر خوف، بغیر ہتھیار۔
جب تک یہ سننا شروع نہیں ہوگا، اداریے لکھے جاتے رہیں گے، لاشیں اٹھتی رہیں گی، اور تاریخ اپنا فیصلہ محفوظ کرتی رہے گی۔
Abrar Ahmed is not just a journalist — he is a chronicler of his time. A Kashmiri journalist, columnist, novelist, and author, he has spent his life wrestling with ideas, questioning power, and giving voice to the voiceless. Armed with a Master’s degree in International Law, he brings intellectual depth and moral clarity to every piece he writes. His education at the University of Azad Kashmir Muzaffarabad and Quaid-i-Azam University shaped his analytical mind, but it is his lived experience that sharpened his pen.
Abrar has been a tireless campaigner for human rights, equality, and justice, speaking out against oppressive systems of governance and entrenched corruption in many Asian countries. He has consistently raised his voice for the deprived and oppressed people of Kashmir, making their struggle for dignity and freedom heard on global platforms.
Today, he resides in Dublin, Ireland, where his perspective has widened, allowing him to view Kashmir’s pain and the world’s conflicts through a sharper, more global lens.
He is the founder of the Institute of Research for Conflict Resolution and Social Development, Ikhtilaf News Media and Publications, and the Daily Sutoon Newspaper — institutions built not just to inform, but to challenge, to provoke, to awaken. His humanitarian vision led to the creation of the Save Humanity Foundation, a reflection of his belief that words must lead to action.
His books are not mere collections of pages — they are manifestos of conscience:
Tehreek-e-Azadi ke Azeem Surkhaik — a tribute to those who gave everything for freedom.
Corruption ke Keerhay — a fearless dissection of the rot eating away at society.
Masla-e-Kashmir ka Hal: Aalmi Aman ka Rasta — a bold attempt to chart a path to peace.
Pakistan and Azad Kashmir Political System and New System Needed — a demand for reform, justice, and a future worthy of its people.
Through his textbooks Modern Community Development Ideas and Basic Journalism, Abrar has shaped generations, giving young minds the tools to see the world critically and act with purpose.
Born on March 19, 1982, Abrar Ahmed stands as a voice of resistance and renewal. His work is not just journalism — it is an ongoing struggle for truth, for peace, and for a just society. To read him is to confront the questions we are too often afraid to ask, and to believe, even in dark times, that words can still change the world.