ملائشیا جانے والے افراد کیلیے بڑی خبر، خصوصی ویزا جاری

ملائشیا کی حکومت نے غیر ملکی سرمایہ کاروں اور کاروباری افراد کے لیے ایک نیا ’گولڈن ویزا‘متعارف کروانے کا اعلان کیا ہے۔

غیرملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق ملائشیا نے ایک سال کی مدت والا نیا ’گولڈن ویزا‘ متعارف کروادیا ہے جو خاص طور پر اُن سرمایہ کاروں اور کاروباری افراد کے لیے ہے جنہیں مطلوبہ شرائط پر پورا اترتے ہوئے اس کا اہل قرار دیا جائے گا۔

اس سے قبل ملائشیا نے سال 2022 میں اپنا پریمیئم ویزا پروگرام بھی شروع کیا تھا جو 20 سال کا پاس ہے اور مقامی روزگار اور سرمایہ کاری کے مواقع کے ساتھ آتا ہے لیکن اس کے لیے مالیاتی شرائط کافی سخت تھیں۔

جن میں کم از کم سالانہ آمدنی آر ایم 4 لاکھ 80ہزار (تقریباً ڈالر 113,660)، درخواست کی فیس آر ایم 2لاکھ (تقریباً 47ہزار 360 ڈالر) اور ایک مقررہ رقم بینک میں جمع کروانا شامل تھے۔

ملائشین انویسٹمنٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے کہنا تھا کہ اس نئے ویزا کو نے یکم اپریل 2025 سے لاگو کیا گیا ہے۔

اسے “انوسٹر پاس” یا سرمایہ کار پاس بھی کہا گیا ہے، جس کا مقصد غیر ملکی سرمایہ کاروں اور کاروباری رہنماؤں کو آسان اور تیز طریقے سے ملائشیا داخل ہونے کی اجازت دینا ہے۔

اس ویزا کا دورانیہ ایک سال ہے (12 ماہ)، اور اس کا عمل نسبتاً مختصر ہے،تفویض کی مدت تقریباً پانچ کاروباری دنوں میں مکمل ہو سکتی ہے۔ ،

گولڈن ویزا کے چند اہم نکات

درخواست گزار کو سرمایہ کاری یا کاروباری سرگرمیوں میں حصہ لینے والے سینئر فرد کی حیثیت سے دیکھا جائے گا، خاص طور پر منیوفیکچرنگ، تعلیم یا ہاسپِیٹالٹی جیسے شعبوں میں۔

اس ویزا کے لیے کوئی مقررہ کم از کم سرمایہ کاری کی رقم سرکاری طور پر اعلان نہیں کی گئی، یعنی “کم از کم” رقم کی حد موجود نہیں ہے جیسا کہ بعض دیگر پروگراموں میں ہوتی ہے۔

درخواست کی فیس آر ایم 1 ہزار 296 (تقریباً 307ڈالر ) ہے، ٹیکس سمیت لیکن دیگر امیگریشن فیس شامل نہیں۔

مائی سیکنڈ ہوم پروگرام

مائی سیکنڈ ہوم پروگرام ایک اور طویل مدتی رہائشی پروگرام ہے جو سرمایہ کاری یا طویل قیام کی بنیاد پر باہر کے افراد کو ملائشیا میں رہنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔

یاد رہے کہ یہ گولڈن ویزا ان اہل افراد کے لیے ہے جنہیں “ڈیپنڈنٹس ” یعنی مرنے والے کے اہلِ خانہ (بیوی، بچے وغیرہ) کے شامل نہیں کر سکتے، یعنی صرف خود درخواست گزار کے لیے ہے۔

اس ویزا کے تحت ملائشیا آمدورفت کا ملٹی انٹری ویزا حاصل کیا جاسکتا ہے، یعنی بیرون ملک سے داخلے اور خروج کی سہولت موجود ہے۔

یاد رہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کیلیے ایسے پروگرام متعارف کراتے ہیں جو غیر ملکیوں کو سرمایہ کاری کے بدلے خصوصی ویزا یا اپنے ملک کی شہریت بھی پیش کرتے ہیں جبکہ بعض اوقات نجی کمپنیوں کے ذریعے بھی یہ سہولت فراہم کی جاتی ہے۔

ان ہی میں سے ایک گولڈن ویزا پروگرام ہے جو امیر تارکین وطن کو ملک میں رہنے اور کام کرنے کا حق دیتا ہے جبکہ ناقدین کا الزام ہے کہ ایسے ممالک دولت مند شہریوں کو بہتر حقوق تک زیادہ سے زیادہ رسائی دیتے ہیں اور ممکنہ طور پر مختلف پابندیوں سے بچنے کا راستہ بناتے ہیں۔

سرمایہ کاری کے بدلے رہائشی حقوق پیش کرنے والے ممالک گولڈن ویزہ ہولڈرز کو نقل و حرکت میں آزادی، صحت کی بہتر سہولیات اور اسٹیٹ پلاننگ، ٹیکس، یا کاروباری معاملات میں درپیش مشکلات دور کرسکتے ہیں۔

Abrar Ahmed is not just a journalist — he is a chronicler of his time. A Kashmiri journalist, columnist, novelist, and author, he has spent his life wrestling with ideas, questioning power, and giving voice to the voiceless. Armed with a Master’s degree in International Law, he brings intellectual depth and moral clarity to every piece he writes. His education at the University of Azad Kashmir Muzaffarabad and Quaid-i-Azam University shaped his analytical mind, but it is his lived experience that sharpened his pen.
Abrar has been a tireless campaigner for human rights, equality, and justice, speaking out against oppressive systems of governance and entrenched corruption in many Asian countries. He has consistently raised his voice for the deprived and oppressed people of Kashmir, making their struggle for dignity and freedom heard on global platforms.
Today, he resides in Dublin, Ireland, where his perspective has widened, allowing him to view Kashmir’s pain and the world’s conflicts through a sharper, more global lens.
He is the founder of the Institute of Research for Conflict Resolution and Social Development, Ikhtilaf News Media and Publications, and the Daily Sutoon Newspaper — institutions built not just to inform, but to challenge, to provoke, to awaken. His humanitarian vision led to the creation of the Save Humanity Foundation, a reflection of his belief that words must lead to action.
His books are not mere collections of pages — they are manifestos of conscience:
Tehreek-e-Azadi ke Azeem Surkhaik — a tribute to those who gave everything for freedom.
Corruption ke Keerhay — a fearless dissection of the rot eating away at society.
Masla-e-Kashmir ka Hal: Aalmi Aman ka Rasta — a bold attempt to chart a path to peace.
Pakistan and Azad Kashmir Political System and New System Needed — a demand for reform, justice, and a future worthy of its people.
Through his textbooks Modern Community Development Ideas and Basic Journalism, Abrar has shaped generations, giving young minds the tools to see the world critically and act with purpose.
Born on March 19, 1982, Abrar Ahmed stands as a voice of resistance and renewal. His work is not just journalism — it is an ongoing struggle for truth, for peace, and for a just society. To read him is to confront the questions we are too often afraid to ask, and to believe, even in dark times, that words can still change the world.

Comments (0)
Add Comment