نئی دہلی : بھارت میں غزہ کے مظلوم مسلمان عوام کے حق میں آواز بلند کرنے پر فزکس کے سابق پروفیسر وپن کمار ترپاٹھی پر پولیس نے دھاوا بول دیا۔
دہلی سے تعلق رکھنے والے فزکس کے سابق پروفیسر وپن کمار ترپاٹھی نے سماجی جدوجہد کو اپنی زندگی کا مقصد بنا رکھا ہے۔
77سالہ ریٹائرڈ پرفیسر ترپاٹھی گزشتہ کئی سالوں سے مختلف موضوعات پر لوگوں میں آگاہی پیدا کرنے کیلیے معلوماتی پرچے تقسیم کرتے ہیں۔
انڈین انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی) دہلی کے 77 سالہ ریٹائرڈ پرفیسر وپن کمار ترپاٹھی نے نئی دہلی میں راج گھاٹ (مہاتما گاندھی کی یادگار) پر بطور احتجاج روزہ رکھا اور زائرین میں بروشر تقسیم کرکے عوامی بیداری کی مہم چلائی۔
ان بروشرز میں بالخصوص غزہ میں اسرائیلی فوج کی بربریت اور اسرائیل کی طرف سے مسلط کردہ جنگ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے انسانی المیے کا ذکر موجود ہے۔ اس موقع پر ترپاٹھی کو اپنے پُرامن احتجاج کے دوران پولیس کی جانب سے سخت ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔
پروفیسر کی بیٹی راکھی تریپاٹھی نے یہ واقعہ انسٹا گرام پر شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ صبح سے میرے والد راج گھاٹ پر غزہ کے لیے روزہ رکھے ہوئے ہیں۔
وہ کڑی دھوپ میں لوگوں کو پمفلٹ دے رہے ہیں، وہ تھکے ہوئے ضرور ہیں مگر اُن کے حوصلے بلند ہیں۔ ہماری دعائیں اور کوششیں غزہ کے ہر دل تک پہنچیں۔
راکھی نے بتایا کہ شام تقریباً 6 بجے چند پولیس اہلکار وہاں پہنچے، انہوں نے میرے والد سے بدکلامی کی پولیس والے نفرت بھرے انداز میں چلاتے ہوئے ایسے آئے جیسے ہم یہاں کوئی فساد برپا کرنے آئے ہوں۔ مجھے یقین نہیں آتا کہ کیا یہ ہماری پولیس ہے؟ جو دوسروں کیلیے اتنی نفرت اور تعصب رکھتی ہے۔ !
قبل ازیں بھارتی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر ترپاٹھی نے کہا کہ بھارت کی آزادی کو حقیقی معنوں میں تبھی مکمل قرار دیا جا سکتا ہے جب ہم دوسروں کی آزادی اور انصاف کے لیے بھی آواز بلند کریں۔
ان کے مطابق آزادی محض اپنے لیے نہیں ہوتی بلکہ یہ احساس اس وقت تک ادھورا رہتا ہے جب تک ہم مظلوموں کے ساتھ کھڑے نہ ہوں۔ آج فلسطینیوں پر جو مصیبت ٹوٹ رہی ہے، اس پر خاموش رہنا ہماری آزادی کے نظریے کے ساتھ ناانصافی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ غزہ میں لاکھوں لوگ شدید بھوک اور پیاس کا شکار ہیں، اسرائیلی ریاست نے خطے کو قحط کے دہانے پر پہنچا دیا ہے اور بچوں، عورتوں اور عام شہریوں کے لیے زندگی ناقابلِ برداشت بنا دی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ میرا فرض ہے کہ میں اپنے ہم وطنوں کو یہ بتاؤں کہ غزہ کے عوام کن مصائب سے گزر رہے ہیں اور انہیں کس طرح بنیادی انسانی حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔
پروفیسر ترپاٹھی نے اس موقع پر فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے طور پر ایک دن کا روزہ بھی رکھا۔ ان کے بقول ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد کرنے والے رہنما صرف اپنے ملک کی آزادی کے خواہاں نہیں تھے بلکہ وہ دنیا کے مظلوموں اور محکوم اقوام کی آزادی کے بھی علمبردار تھے۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ آج ہم پر یہ ذمہ داری ہے کہ ہم فلسطین کے عوام کے ساتھ کھڑے ہوں اور ان کے حقِ آزادی کو تسلیم کرنے کے لیے آواز اٹھائیں۔
Abrar Ahmed is not just a journalist — he is a chronicler of his time. A Kashmiri journalist, columnist, novelist, and author, he has spent his life wrestling with ideas, questioning power, and giving voice to the voiceless. Armed with a Master’s degree in International Law, he brings intellectual depth and moral clarity to every piece he writes. His education at the University of Azad Kashmir Muzaffarabad and Quaid-i-Azam University shaped his analytical mind, but it is his lived experience that sharpened his pen.
Abrar has been a tireless campaigner for human rights, equality, and justice, speaking out against oppressive systems of governance and entrenched corruption in many Asian countries. He has consistently raised his voice for the deprived and oppressed people of Kashmir, making their struggle for dignity and freedom heard on global platforms.
Today, he resides in Dublin, Ireland, where his perspective has widened, allowing him to view Kashmir’s pain and the world’s conflicts through a sharper, more global lens.
He is the founder of the Institute of Research for Conflict Resolution and Social Development, Ikhtilaf News Media and Publications, and the Daily Sutoon Newspaper — institutions built not just to inform, but to challenge, to provoke, to awaken. His humanitarian vision led to the creation of the Save Humanity Foundation, a reflection of his belief that words must lead to action.
His books are not mere collections of pages — they are manifestos of conscience:
Tehreek-e-Azadi ke Azeem Surkhaik — a tribute to those who gave everything for freedom.
Corruption ke Keerhay — a fearless dissection of the rot eating away at society.
Masla-e-Kashmir ka Hal: Aalmi Aman ka Rasta — a bold attempt to chart a path to peace.
Pakistan and Azad Kashmir Political System and New System Needed — a demand for reform, justice, and a future worthy of its people.
Through his textbooks Modern Community Development Ideas and Basic Journalism, Abrar has shaped generations, giving young minds the tools to see the world critically and act with purpose.
Born on March 19, 1982, Abrar Ahmed stands as a voice of resistance and renewal. His work is not just journalism — it is an ongoing struggle for truth, for peace, and for a just society. To read him is to confront the questions we are too often afraid to ask, and to believe, even in dark times, that words can still change the world.